حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 9
15 14 لکھتے۔کم و بیش چورانوے (94) خطوط حضرت اقدس مسیح موعود نے آپ کو اپنے کے آپ کے نام خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے اگست 1894 ء سے دست مبارک سے لکھے جو کہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی نے مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ اول میں شائع فرما دیئے ہیں۔حضرت اقدس کے ساتھ محبت اور اخلاص آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق کی حد تک محبت تھی یہی وجہ تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے خطوط میں آپ کیلئے بہت ہی محبت بھرے الفاظ استعمال فرمائے۔آپ نے کہیں تو آپ کو اخویم جولائی 1905 ء تک مختلف مواقع پر کم و بیش تین ہزار نو سو پچاس روپے (3950) اپنے آقا کی خدمت میں پیش کئے جو حضرت اقدس نے قبول فرمائے۔یہ اس زمانہ کے لحاظ سے ایک بڑی رقم تھی۔خوش قسمتی آپ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بعض خاص مواقع پر جب کہ مخالفین کے بالمقابل رقم کی ضرورت پڑنے کا امکان تھا تو (میرے بھائی) لکھا کہیں ”ہمارے بہادر پہلوان لکھا۔کہیں مخلص ومحبّ یک آپ ہی کو اس کام کے لئے منتخب فرمایا کہ آپ اس رقم کا انتظام کریں۔رنگ“ لکھا۔کہیں ”مخدومی“ کے الفاظ تحریر فرمائے۔کہیں حتمی فی اللہ محض اللہ کے لئے مجھ سے محبت کرنے والا) فرمایا۔کہیں آپ کو سراپا محبت و اخلاص کا لقب دیا۔چنانچہ آٹھم عیسائی کے ساتھ حضرت اقدس کا جب صداقت دین حق صلى الله اور حقانیت قرآن مجید اور صداقت حضرت محمد مصطفی ﷺ پر مقابلہ ہوا تو آپ نے آپ کی یہ سعادت ہے کہ مسیح و مہدی نے آپ کے اخلاص و محبت کو دیکھتے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر اسے چیلنج دیا اور یہ انعامی رقم آپ نے چار ہزار ہے ہوئے ایسے محبت بھرے کلمات والقابات میں آپ کو یا دکیا۔یہ محبت تو نصیبوں سے ملا کرتی آپ کو اللہ تعالیٰ نے دنیوی طور پر خوشحالی عطا فرمائی ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کی آزمائش کے رنگ بھی نرالے ہوتے ہیں۔آپ ایک لمبا عرصہ مالی ابتلاؤں میں رہے اور کوئی صورت ان حالات سے نجات کی بن نہ آتی تھی۔مگر ان تمام تر حالات کے باوجود آپ باقاعدگی کے ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں مہمات دینیہ کے لئے رقوم بھجواتے رہے۔حضرت اقدس علیہ السلام (4000) روپے تک پیش فرمائی تو اس سلسلہ میں رقم کی اگر ضرورت پڑے تو آپ کو اس کا انتظام کرنے کا ارشاد فرمایا۔اسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام نے جب بیت المبارک کی توسیع کی ضرورت محسوس فرمائی تو آپ کو اس کیلئے مالی اعانت کی تحریک خاص فرمائی۔1899ء میں جب قحط کی صورت پیدا ہوئی تو آپ نے حضرت سیٹھ صاحب کو ہی تحریک فرمائی۔طویل دور ابتلاء حضرت سیٹھ صاحب کے نصیب میں یہ بات بھی آئی کہ آپ کے ابتلاؤں