حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 7
11 10 حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کرنا مولوی حسن علی صاحب جو کہ اس سے قبل بھی ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود سے مل چکے تھے انہوں نے حضرت صاحب کے تشریف لے جانے کے بعد بلند آواز میں اللہ اکبر کہا اور کہنے لگے۔" خدا کی قسم یہ وہ مرزا نہیں جن کو کچھ برس پہلے میں نے دیکھا تھا یہ تو کوئی اور ہی وجود نظر آرہا ہے۔“ (ضمیمہ آپ بیتی مکتوبات احمد یہ جلد نمبر 5 حصہ اول ص 50 ) حضرت سیٹھ صاحب نے تو بیعت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر حضرت مولوی حسن علی صاحب نے دعاؤں اور استخاروں کی طرف توجہ کی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی کی گئی کہ اس امام کے حلقہ بیعت میں شامل ہو جاؤ۔چنانچہ یہ دونوں بزرگ بیعت کر کے حضرت مسیح موعود کے سلسلہ میں شامل ہو گئے۔یہ جمعرات کی شام کی بات ہے۔مخالفت میں مزید شدت بیعت کے قریباً دودن بعد آپ دونوں مدراس کی طرف روانہ ہو گئے۔جب آپ وہاں پہنچے تو جیسا کہ اللہ کی طرف سے آنے والے پاک وجودوں کے ماننے والوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ ہر زمانہ میں ہوتا رہا آپ کے ساتھ بھی ہوا۔آپ کی شدید مخالفت شروع ہو گئی۔آپ کے ان مشکل حالات میں قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت سید محمد احسن صاحب فرماتے ہیں۔ابتدا 1312ھ میں جبکہ آں مرحوم بیعت ہوئے تھے تو علمائے مخالفین نے بڑا شور وغل بر پا کیا تھا۔“ الفضل قادیان 26 اگست 1915 ، صفحہ 5) حضرت سیٹھ صاحب کی مخالفت تو بہت ہوئی مگر آپ کو ان مخالفتوں کی کیا پر واہ تھی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ مخالفین کو تو اس پاک وجود کی پہچان نہیں۔مگر آپ کو تو اس زمانہ کا امام مل گیا تھا۔آپ اس کے فیض سے فیض یاب ہو چکے تھے۔آپ کو تو دونوں جہانوں کی متاع بے بہا مل چکی تھی اور آپ کو اس وجود پاک کے ہاتھ میں ہاتھ دینے سے روحانی ترقیات ملنی شروع ہو چکی تھیں۔بیعت کی برکات اس بیعت کے نتیجہ میں آپ کو اللہ تعالی کے جو خاص فضل ملے آپ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس امام الزماں علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرنے کے بعد اپنے اندر جو تبدیلی ہوئی اس کو مختصر الفاظ میں لکھ دینا کافی ہے۔ابتدائی عمر کے زمانہ کے بعد زمانہ اوسط اور اس کے بعد لگا تار زمانہ بیعت جو کچھ اپنی عملی حالت میں نے بتائی ہے اس کا ازالہ ہوتا چلا اور کوئی بیس پچیس برس کی تا گفتنی علتیں اور عادتیں جو اپنے اندر تھیں اور جن کی بابت کبھی کبھی خیال