حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 10
18 17 خراب کیوں نہ ہو جائیں یہ نقد سرائل ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی غالب آئیں گے اور دشمن نامراد ہوکر رہے گا۔اسلئے جوں جوں ظاہری امید میں ختم ہوتی جارہی تھیں خدا تعالیٰ پر ان کا ایمان اور بھی مضبوط اور گہرا ہوتا چلا جارہا تھا۔دشمن کی طرف سے رات دن یہی کوشش تھی کہ کسی طرح بھر پور حملہ کیا جائے لیکن سوائے چھوٹے چھوٹے حملوں کے جن میں کچھ جانی نقصان بھی ہوا کوئی بڑا حملہ ممکن نہ ہو سکا اور دن یونہی گزرتے چلے گئے اور اتحادی لشکر کے حو صلے جواب دینے لگے۔یہ شکر بھی چونکہ مختلف قبائل کا مجموعہ تھا اور سوائے مسلمانوں کی دشمنی کے اور کوئی وجہ اشتراک یا محبت آپس میں نہ تھی اسلئے جوں جوں دن گزرتے گئے باہم غلط فہمیاں پیدا ہوتی چلی گئیں اور بالآخر لشکر میں واضح طور پر پھوٹ پڑ گئی اور مین اسی رات جب یہ بد اعتمادی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی خدا تعالی کی طرف سے ایک نہایت تیز آندھی چلی جس سے کفار کے کیمپ میں کھلبلی مچ گئی۔طوفان کی وجہ سے خیمے پھٹ گئے۔قناتیں اکھڑ گئیں۔ریت مٹی اور کنکریوں نے گویا بارش کی طرح کفار کے لشکر کو الٹ پلٹ کر دیا۔وہ تمام آگیں بھی بجھ گئیں جو لشکر کی عظمت کی علامت کے طور پر روشن کی گئی تھیں۔ان لوگوں کے دلوں پر جو پہلے ہی ایک دوسرے سے متنفر ہو چکے تھے سخت ہیبت اور لرزہ طاری ہو گیا اور یہ لشکر جو مدینہ کو تباہ کرنے کی نیت لے کر یہاں آیا تھا صبح ہونے سے پہلے پہلے بدحواسی کا شکار ہوکر میدان چھوڑ گیا۔میں جو بستی بستی ہے دین کی تلاش کرتا ہوا بالآخر اسلام کی آغوش میں آگیا صلى الله تھا اب ہر راحت و آرام میں حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتا اور جس قدر ممکن ہوتا آپ سے فیض حاصل کرتا۔یہ ایام جو میں نے اپنے پیارے آقا کی خدمت میں گزارے میری زندگی کا حاصل اور سب سے بڑا سرمایہ تھے۔لیکن مجھے بی اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن مجھے اپنی زندگی میں ہی اپنے پیارے نبی کی جدائی کا دن بھی دیکھنا پڑے گا۔مکہ فتح ہو گیا۔دین کی تکمیل ہوگئی۔لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔اور پھر ایک دن اچانک ہمارے پیارے نبی ہم سے رخصت ہو کر اپنے رفیق اعلیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔میری تو گو یاد نیا ہی اندھیر ہو گئی۔دیگر صحابہ کی طرح میں بھی شدت غم سے گویا دیوانہ سا ہو گیا اور ایک لمحہ کیلئے تو یوں لگا کہ جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہے لیکن پھر دوسرے ہی لمحے اللہ تعالیٰ نے خلافت راشدہ کے ذریعے سے ہمارے خوف کو امن میں بدل دیا اور اسلام ترقی کرنے لگا۔لیکن مدینہ میں اپنے محبوب کی یاد میں اس قدر ستاتی تھیں کہ دل بے تاب ہو جایا کرتا تھا، اور پھر جب حضرت عمر فاروق کے دور میں مجھے یہ موقع ملا کہ میں عراق میں جا کر آباد ہو جاؤں تو میں نے عراق میں سکونت اختیار کر لی تا کہ ایک طرف مختلف مہمات میں دیگر مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو سکوں اور دوسرے وہاں موجود نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کا کام کرسکوں۔عراقی اور ایرانی مہمات میں میری شمولیت اسلامی لشکر کیلئے اس اعتبار سے بھی بہتر تھی کہ میں ان علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتا تھا اور فارسی زبان جاننے کی وجہ سے اپنے اہل وطن کو اسلام کا درست پیغام بھی پہنچا سکتا تھا۔