حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 9
16 15 حاصل ہوئی۔الله حضور اکرم ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ کفار مکہ بہت سے قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر ایک بڑے لشکر کی صورت میں مدینہ پر حملہ آور ہونے والے ہیں۔اور قریباً 24000 سپاہیوں پر مشتمل اس فوج کی نیت یہ ہے کہ اس مرتبہ مسلمانوں کا نام و نشان بھی مٹادیا جائے۔بہت خوفناک صورتحال تھی اسلئے حضوراکرم علی نے اللہ تعالی کے حکم " شاوِرُهُم فِی الامر" کے پیش نظر اپنے تمام صحابہ کومشورے کیلئے جمع کیا اور مشورہ مانگا۔شہر مدینہ کی جغرافیائی صورتحال سے میں مکمل طور پر آگاہ تھا اور یہ جانتا تھا کہ اتنے بڑے لشکر سے براہ راست ٹکراؤ کے بجائے اسے کسی اور طرح سے روکنا مناسب ہوگا۔چنانچہ میں نے ایران میں رائج طریق جنگ کو ذہن میں رکھتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ اگر ہم مدینہ کے شمال کی طرف ایک چوڑی خندق کھود دیں تو شہر کی حفاظت کی جاسکتی ہے کیونکہ صرف شمالی جانب ہی ایسی تھی جہاں سے کوئی بڑ الشکر حملہ آور ہوسکتا تھا جبکہ مدینہ کی دیگر اطراف سے جغرافیائی وجوہات کی بناء پر حملہ ممکن نہیں تھا۔حضور نے اس تجویز کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے اسے قبول فرمالیا اور خندق کھودنے کا حکم دیتے ہوئے یہ کام صحابہ کی مختلف جماعتوں کے سپر د کیا اور اپنی نگرانی میں نشان لگوا کر کام کا آغاز کروادیا۔سخت سردی کا موسم تھا لیکن صحابہ اپنے پیارے نبی ﷺ سے علم کی تعمیل میں دن رات ایک کر کے اس کام میں مصروف ہو گئے اور یہ دیکھ کر تو ان کے حوصلے اور بھی بلند ہو جاتے تھے کہ اُن کا پیارا آقا بھی ہر لمحہ ان کے ساتھ ان کاموں میں شامل تھا اور نگرانی کے ساتھ ساتھ خود اپنے ہاتھ سے بھی کام کر رہا تھا۔یوں مسلسل چھ دن رات کام کر کے یہ خندق مکمل ہوگئی اور جب کفار کا لشکر جرار مدینہ کو ملیامیٹ کرنے کے خواب دیکھتا تھا یہاں پہنچا تو مارے حیرت اور پریشانی کے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔اس طویل و عریض خندق کو پار کرنا اُن کے بس کی بات نہیں تھی اسلئے نا چارو ہیں خندق کے پار پڑاؤ ڈال کر بیٹھ گئے اور آئندہ کیلئے منصوبے سوچنے لگے۔حضور اکرم علیہ بھی اپنے تین ہزار صحابہ کے ساتھ خندق کی اس جانب خیمہ زن ہوئے اور کفار کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے لگے۔۔کفار مکہ نے مدینہ کو محاصرے میں لیتے ہوئے ایسی جگہوں کی تلاش شروع کی جہاں سے مدینہ پر حملہ ممکن ہو۔اور ساتھ ہی ساتھ سیاسی چالیں چلتے ہوئے مدینہ سے متصل یہودی قبیلے بنوقریظہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔حالانکہ ان قبائل کا رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو چکا تھا۔مدینہ کے باہر ایک لشکر جرار اور مدینہ کے اندر سے بنو قریظہ کی غداری نے ظاہری اعتبار سے جنگ کا پانسہ مکمل طور پر کفار کے حق میں کردیا تھا اور کمزور ایمان کے لوگ اور منافقین بر مایہ کہنے لگے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدے غلط نکلے۔لیکن دوسری جانب کامل مومن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کئے ہوئے تھے اور جانتے تھے کہ حالات خواہ کیسے ہی