حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 10 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 10

17 16 یہ رعایت آپ کو دی کہ عزیز رشتہ دار اس کو ٹھی میں آکر آپ سے مل جاتے تھے۔کوٹھی میں ایک دن آپ کے مرید آپ سے ملنے کے لئے آئے اور کہا کہ ہم آپ کو یہاں سے نکال کر لے جاتے ہیں یہ لوگ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔آپ نے فرمایا تم کوئی منصوبہ نہ بنانا اللہ تعالیٰ مجھ سے اپنے دین کی خدمت لینا چاہتا ہے۔کچھ دنوں کے بعد جب خوست کے حاکم کو معلوم ہو گیا کہ آپ مریدوں کو امن کی تعلیم دیتے ہیں اور اسے کوئی خطرہ نہ رہا تو شہر دہ صاحب کو آٹھ گھوڑ سواروں کے ساتھ کا بل بھجوایا۔ادھر شہزادہ صاحب کو بھی بادشاہ کی طرف سے ایک خط مل چکا تھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ آپ بغیر کسی ڈر یا خوف کے آجا ئیں اگر اس مسیح کا دعوی سچا ہوگا تو میں بھی مان لوں گا۔آپ کے کابل پہنچنے سے پہلے مشہور ہو چکا تھا کہ آپ کو دھوکا دے کر بلایا گیا ہے۔جب آپ کابل کے بازار سے گزرے تو پیچھے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے کئی بازاری لوگ بھی پیچھے ہو لئے اور شہزادہ صاحب کو دربار میں پیش کیا گیا۔شہزادہ صاحب قید میں بادشاہ کو آپ کے خلاف بہت بھڑکایا گیا تھا وہ بختی سے پیش آیا اور کہا کہ ان کو ارک کے قلعہ میں قید کر دو۔یہ ایک بہت بڑا قلعہ تھا جس کے ایک حصہ میں خود بادشاہ رہتا تھا۔یہ حکم بھی دیا گیا کہ آپ کو ایک زنجیر جسے غرغراب کہتے ہیں پہنا دی جائے۔یہ زنجیر ایک من چوبیس سیر وزنی ہوتی تھی جو گردن سے کمر تک گھیر لیتی تھی اور اس میں ہتھکڑی بھی تھی اور آپ کے پاؤں میں آٹھ سیروزنی بیڑی لگا دی گئی۔اس طرح آپ نے چار مہینے قید با مشقت میں گزارے اور بہت تکلیف اٹھائی مگر اس سخت قید کی حالت میں بھی آپ خدا کو یاد کرنے اور قرآن مجید پڑھنے میں اپنا وقت گزارتے تھے۔آپ کو اس قلعہ کے ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے دروازے بند کر دئیے جاتے تھے اور کسی کو آپ سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور دن رات سپاہی اس کمرہ کا پہرہ دیتے تھے۔یہ پہریدار بیان کرتے ہیں کہ ہمیں دن رات آپ کے کمرہ سے قرآن شریف پڑھنے کی آواز آتی تھی اور ہم حیران ہوتے تھے کہ اتنی روکوں کے باوجود آپ اپنی ضروریات کس طرح پوری کرتے ہوں گے۔تمام سپاہی آپ کو بڑا بزرگ مانتے تھے اور ان کے دلوں میں آپ کی بہت محبت تھی۔قید کے دوران ایک بار آپ نے کسی ذریعہ سے اپنے گھر خبر بھیجی کہ مجھے خرچ بھیج دو۔آپ کے شاگر د احمد نور صاحب کابلی سخت سردی کے موسم میں خطر ناک سفر طے کر کے خوست سے پیدل کا بل آئے اور شہزادہ صاحب کو خرچ پہنچایا۔شہزادہ صاحب کاصبر قید کے دوران بادشاہ افغانستان نے شہزادہ صاحب کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ کیا ہی اچھا ہوا گر آپ اس شخص کو مسیح موعود ماننے سے انکار کر دیں اور اس مصیبت سے بچ جائیں مگر شہزادہ صاحب نے جواب دیا کہ جن باتوں کو میں قرآن اور حدیث سے سچا مان چکا ہوں ان کو کس طرح غلط اور جھوٹ کہہ دوں۔اس سے تو مرنا اچھا ہے مگر ا نکار نہیں کر سکتا۔بے شک اس سے پہلے بادشاہ آپ کی بہت عزت کرتا تھا اور آپ کو بے گناہ سمجھتا تھا لیکن دوسری طرف وہ مولویوں سے بھی ڈرتا تھا اس لئے وہ قید کے تین چار مہینوں میں شہزادہ صاحب کو بار بار کہتا رہا کہ مسیح موعود کا انکار کر دیں تو عزت کے ساتھ رہا کر دئیے جائیں گے مگر