حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 11
19 18 ہر دفعہ اس بہادر شہزادے نے یہی جواب دیا کہ میں نے پوری تحقیق اور تسلی سے ایک شخص کو سچا مان لیا ہے اب خواہ جان چلی جائے ، اولا د برباد ہو جائے مجھے پرواہ نہیں۔میں دین اور ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں۔کابل کے لوگ شہزادہ صاحب کا ایمان دیکھ کر اور دین کے لئے ایسی بہادری کی باتیں سن کر حیران ہوتے تھے اور یہ بات تھی بھی عجیب کہ کابل کا ایک شہزادہ جس کے پچاس ہزار لوگ مرید تھے اور وہ تہیں ہزا را یکڑ جاگیر کا مالک تھا اور جس نے پچاس سال بڑے آرام سے شاہانہ زندگی گزاری تھی اتنی سخت اور مشکل قید میں بھی بڑے صبر کے ساتھ بچے عقیدہ پر قائم رہا اور بڑی بہادری سے یہ اعلان کرتا رہا کہ میں جان ، مال اور اولاد چھوڑنے کے لئے تیار ہوں مگر سچائی کو نہیں چھوڑ سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بادشاہ کے وعدوں کے مقابل آپ کے جواب ایسے تھے کہ کابل کی زمین کبھی ان کو بھول نہیں سکتی اور کابل کے لوگوں نے اپنی ساری عمر میں ایمانداری کا یہ نمونہ نہیں دیکھا ہوگا۔کابل کے مولویوں سے بحث جب چار مہینے قید کے گزر گئے تو بادشاہ نے آپ کو آخری موقع دیا اور دربار عام میں آپ کو بھی بلایا اور سمجھاتے ہوئے کہا کہ اب بھی مسیح موعود کا انکار کر دو تو تمہاری جان بچ جائے گی مگر آپ نے سب کے سامنے یہ اعلان دو ہرایا کہ یہ ناممکن ہے کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔بے شک مخالف مولویوں کے ساتھ میری بحث کرالی جائے اگر میں جھوٹا ثابت ہو جاؤں تو مجھے سزادی جائے۔بادشاہ نے یہ بات مان لی اور شہزادہ صاحب اور مولویوں کے درمیان کابل کی جامع مسجد میں بحث ہوئی۔اس دن بہت سے لوگ مباحثہ سننے کے لئے وہاں جمع ہو گئے۔شہزادہ صاحب کو ز نجیریں اور ہتھکڑیاں لگا کر پولیس کی نگرانی میں مسجد لے جایا گیا۔ادھر مسجد۔۔۔۔۔میں کابل کے بڑے آٹھ مفتی اور مولوی بحث کے لئے تیار تھے جن کے ساتھ اسی آدمی حوالے وغیرہ تلاش کرنے کے لئے تھے شہزادہ صاحب اکیلے تھے مگر خدا تو آپ کے ساتھ تھا۔۔مباحثہ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ بحث لکھ کر ہوتی تھی اور کوئی بات لوگوں کو سنائی نہیں جاتی تھی۔یہ بحث سات بجے صبح سے تین بجے دوپہر تک جاری رہی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی ،مسئلہ جہاد اور حضرت عیسی علیہ اسلام کی وفات پر بحث ہوئی۔جب بحث ہو رہی تھی تو آٹھ آدمی ننگی تلوار میں لے کر شہزادہ صاحب کے سر پر کھڑے پہرہ دے رہے تھے۔مولویوں کو حکم تھا کہ شہزادہ صاحب سے سوال کئے جائیں اور شہزادہ صاحب کو صرف جواب دینے کا حکم تھا سوال کی اجازت نہ تھی۔شہزادہ صاحب پر بہت سے سوال ہوئے اور آپ نے اچھی طرح سب کے جواب دیئے۔آپ سے پوچھا گیا کہ اس شخص کو جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے کیا سمجھتے ہو۔آپ نے فرمایا میں ان کو سچا سمجھتا ہوں۔وہ خدا سے حکم پا کر اس زمانہ کی اصلاح کے لئے قرآن شریف کی پیشگوئیوں کے مطابق آئے ہیں اور ہم نے اس شخص کو دیکھا ہے اس جیسا انسان دنیا میں اس وقت کوئی نظر نہیں آتا اور بے شک وہی مسیح موعود ہے۔۔۔اس پر ملاؤں نے شور مچا کر کہا وہ بھی کافر ہے اور تو بھی کافر ہے۔تب اس بہادر شہزادے نے سب مولویوں کو کہا تمہارے دو خدا ہیں کیونکہ تم بادشاہ سے ایسا ڈرتے ہو جیسا کہ خدا سے ڈرنا چاہئے مگر میرا خدا ایک ہے اس لئے میں بادشاہ سے نہیں ڈرتا۔پھر آپ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ واپس آئیں گے یا نہیں ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ قرآن کریم ان کی وفات اور دوبارہ نہ آنے پر گواہی دیتا ہے۔تب مولوی لوگ آپ کو گالیاں دینے لگے اور کہا کہ اب اس شخص کے کافر ہونے میں کیا