حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 9
15 14 خوست کے گورنر کو یہ حکم بھجوایا گیا کہ شہزادہ صاحب کو گرفتار کر کے پچاس سواروں کے ساتھ یہاں بھیج دو۔یہ حکم بادشاہ کے بھائی نصر اللہ خاں نے خوست کے گورنر کو بھجوایا تھا۔شہزادہ صاحب کو اپنی گرفتاری اور خدا کی راہ میں قربان کئے جانے کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی طر گرفتاری سے پہلے کا واقعہ ہے ایک دن آپ شاگردوں کے ساتھ سیر پر جارہے تھے راستے میں اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر فرمانے لگے ” کیا تم ہتھکڑیاں پہننے کی طاقت رکھتے ہو؟“ پھر اپنے شاگر داحمد نور صاحب کا بلی سے کہا میں مارا جاؤں گا تم میرے مرنے کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دینا۔اس پر آپ کے شاگرد کے آنسو نکل آئے اور کہا میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں یاد ہے افغانستان واپسی پر جب تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا تھا کہ میں قادیان سے باہر نہیں جاسکتا تو حضور نے فرمایا کہ ان کے ساتھ جاؤ تم واپس آجاؤ گے۔پس تمہارے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کہنا ہے کہ واپس آجاؤ گے۔میرے بارہ میں تو یہ نہیں فرمایا۔بادشاہ کا حکم آنے سے پہلے جب آپ نے اپنی گرفتاری کی خبر اپنے ساتھیوں کو بتائی تو سب نے کہا کہ آپ بنوں چلے جائیں جہاں آپ کی زمین بھی تھی مگر آپ نہ گئے۔شہزادہ صاحب کی گرفتاری اب شہزادہ صاحب کی گرفتاری کا وقت قریب آرہا تھا۔جس دن آپ گرفتار ہوئے اس روز آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں اس وقت تک کے تمام واقعات اور حالات لکھے۔آپ نے عزت و تکریم کے جو الفاظ حضور کو لکھے وہ اتنے پیارے تھے کہ آپ کے شاگر داحمد نور صاحب کا بلی نے کہا آپ یہ خط مجھے دے دیں نقل کر کے واپس دے دوں گا۔آپ نے وہ خط جیب میں ڈال لیا اور فرمایا یہ خط تمہارے ہاتھ آجائے گا۔جب عصر کا وقت ہوا تو پچاس سوار آپ کو پکڑنے کے لئے حاکم خوست کی طرف سے آئے۔علاقہ خوست کے حاکم شہزادہ صاحب کی بہت عزت کرتے تھے ان سواروں کو بھی یہی حکم تھا۔جب شہزادہ صاحب عصر کی نماز پڑھا چکے تو ان سواروں نے آپ کو یہ پیغام دیا کہ حاکم خوست کہتے ہیں کہ مجھے آپ سے ملنا ہے آپ خود آئیں گے یا میں حاضر ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا نہیں وہ ہمارے سردار ہیں میں خود چلتا ہوں۔تب آپ نے اپنے گھوڑے پر زین ڈالنے کا حکم دیا لیکن سواروں میں سے ایک سوار نے اتر کر اپنا گھوڑاشہزادہ صاحب کو سواری کے لئے پیش کر دیا۔چلنے سے پہلے آپ نے گھر والوں کو نصیحت کی کہ میں اب جا رہا ہوں دیکھو ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم کوئی اور راستہ اختیار کرو۔جس ایمان اور عقیدہ پر میں ہوں وہی تمہارا مذہب ہونا چاہئے۔جب آپ جانے لگے تو جو خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا تھا جیب سے نکال کر اپنے شاگر د احمد نور صاحب کا بلی کو دیا اور کچھ نہ کہا۔گاؤں سے باہر تک آپ کا شاگرد آپ کے ساتھ رہا پھر آپ نے فرمایا اب تم واپس چلے جاؤ۔اس نے خدمت کے لئے ساتھ رہنے کی اجازت مانگی تو آپ نے قرآن کریم کی وہ آیت پڑھی جس کا مطلب ہے اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالو۔اور فرمایا اس گاؤں سے اپنے گھر واپس چلے جاؤ اور خود شہزادہ صاحب سواروں کے ساتھ خوست کی چھاؤنی میں چلے گئے۔گورنر نے آپ کو بتایا کہ کابل سے حکم آیا ہے کہ نہ کوئی آپ سے ملے اور نہ آپ کسی سے ملیں اس لئے علیحدہ کوٹھی آپ کو دی جاتی ہے۔اور اس کوٹھی پر پہرہ لگادیا گیا لیکن گورنر نے