حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 3 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 3

3 2 حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب پیارے بچو! آج ہم تمہیں ملک افغانستان کے ایک شہزادے کی سچی کہانی سناتے ہیں۔آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے افغانستان کےصوبہ خوست کے ایک گاؤں سیدگاہ میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ماں باپ نے اس کا نام محمد عبد اللطیف رکھا جو بعد میں شہزادہ عبداللطیف مشہور ہوئے۔آپ حضرت داتا گنج بخش کی اولاد میں سے تھے اور آپ کے بزرگ ہندوستان سے ہجرت کر کے افغانستان جا کر آباد ہوئے تھے۔آپ سید تھے اس لئے آپ کے گاؤں کا نام بھی سید گاہ پڑ گیا۔اس علاقہ میں آپ کا خاندان پھیلتا رہا اور آہستہ آہستہ بہت بڑے زمینداروں میں شمار ہونے لگا۔اس زمانہ میں اس خاندان کی کل جائداد تھیں ہزارایکٹر کے قریب تھی جس کی قیمت اس وقت بھی کئی لاکھ روپے تھی۔افغانستان کی حکومت بھی اس خاندان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمن کی طرف سے اس خاندان کے ایک بزرگ کو پنشن بھی ملتی تھی۔اس گھرانے کے لوگ ” صاحبزادہ“ کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو شہزادہ لکھتے تھے اس لئے اس کہانی میں ہم آپ کو شہزادہ ہی کہیں گے۔یه خاندان دینی لحاظ سے بھی بہت مشہور تھا۔مہمان نوازی ان کی خاص خوبی تھی اور ان کے علم دین کی سارے علاقے میں شہرت تھی۔شہزادہ عبداللطیف صاحب اس امیر خاندان میں پیدا ہوئے۔گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔کسی چیز کی کمی نہ تھی لیکن شہزادہ صاحب کو بچپن سے ہی دنیا کی بجائے دین کے کاموں سے زیادہ محبت تھی۔آپ خود کہا کرتے تھے کہ مجھے بچپن سے ہی درود پڑھنے کا بہت شوق تھا اور اس کے پڑھنے سے مجھے بہت مزا آتا تھا۔شہزادہ صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ خوست میں ہی حاصل کی پھر زیادہ تعلیم کے لئے پشاور آئے اور یہاں کئی سال رہ کر بڑے بڑے استادوں اور عالموں سے پڑھتے رہے۔اس کے بعد آپ لکھنؤ آئے اور بعض اور شہروں کے مختلف دینی مدرسوں میں علم سیکھتے رہے۔لکھنو کے مشہور عالم مولوی عبدالحئی لکھنوی صاحب بھی آپ کے استاد تھے۔ان کو شہزادہ صاحب سے بہت پیار تھا۔ایک دفعہ مولوی صاحب کے شاگردوں نے ان سے شکایت کی کہ آپ شہزادہ صاحب سے بہت محبت سے پیش آتے ہیں۔مولوی صاحب نے جواب دیا یہ اس وجہ سے پیارے لگتے ہیں کہ ان کا نام بھی لطیف ہے اور ذہن بھی لطیف یعنی بہت ذہین ہیں۔ہندوستان میں کئی سال رہ کر علم حاصل کرنے کے بعد جب آپ واپس اپنے ملک افغانستان گئے تو آپ کی شادی اپنی ایک رشتہ دارشاہ جہاں بی بی سے کر دی گئی جو بڑی نیک اور نماز روزہ کی پابند تھیں۔شادی کے کچھ عرصہ بعد شہزادہ صاحب نے علم کے شوق میں دوبارہ ہندوستان کا سفر کیا اور دہلی اور لکھنو کے بڑے بڑے مدرسوں میں جا کر علم حاصل کیا۔اس زمانے میں آپ