حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 4 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 4

5 4 کے گھر والے خاص آدمی خوست سے ہندوستان بھیجتے تھے جو آپ کو ضرورت کے لئے خرچ وغیرہ دے جاتا تھا۔ہندوستان سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب آپ واپس وطن تشریف لائے تو اپنے گاؤں میں قرآن اور حدیث کا درس شروع کیا۔لوگ دور دور سے آپ کے پاس پڑھنے کے لئے آنے لگے اور آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔آپ نے اپنی ( بیت) کے ارد گرد کمروں میں طالب علموں کے رہنے کا انتظام بھی کیا ہوا تھا اور ان کو کھانا بھی آپ مفت دیتے تھے۔ان پڑھنے والوں کی تعداد میں چالیس کے قریب ہوتی تھی۔ان کے علاوہ بہت سے مہمان ، مسافر ، غریب لوگ اور آپ کے مرید آپ کے گھر سے کھانا کھاتے تھے۔کہتے ہیں ایک دن کھانا کھانے والوں کی تعداد کم ہو کر اسی رہ گئی تو شہزادہ صاحب بہت سوچنے لگے کہ اس کی کیا وجہ ہے۔آپ نے اپنے خاندان کے لوگوں کو اکٹھا کیا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ مہمانوں اور مسافروں کی یہ تعداد بڑھا دے۔جب کبھی علاقے میں قحط پڑتا تو آپ اپنی ساری گندم ضرورت مند غریب لوگوں میں تقسیم کروا دیتے۔آپ بہت بڑے عالم تھے۔آپ کی اپنی لائبریری تھی جس میں تفسیر ، حدیث ، فقہ اور تاریخ کی بڑی بڑی اور پرانی کتابیں موجود تھیں۔آپ کو کتابیں پڑھنے کا بھی بہت شوق تھا۔بعض دفعہ ساری ساری رات پڑھتے رہتے تھے۔آپ کی ان خوبیوں کی وجہ سے کئی لوگ آپ کے مرید ہو گئے جن کی تعداد پچاس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔آپ کو لوگ صاحبزادہ اور شہزادہ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔پیارے بچو! اس وقت ملک افغانستان پر بادشاہ عبدالرحمن حکومت کرتا تھا۔جب آپ کی شہرت بادشاہ نے سنی تو اس نے آپ کو دارالحکومت کابل میں بلوا بھیجا۔آپ آ کر بادشاہ سے ملے تو اس پر آپ کے علم اور بزرگی کا بہت اثر ہوا اور وہ آپ کے اچھے خیالات اور خوبصورت باتیں سن کر بہت خوش ہوا اور اپنے ملک میں مذہبی مشوروں کے لئے آپ کو مشیر اور اپنے بیٹے حبیب اللہ خاں کا استاد مقرر کیا۔بادشاہ پر آپ کے علم کا اتنا اثر تھا کہ اس نے ایک مرتبہ آپ کے بارہ میں لکھا کہ کاش! ہمارے تین چار اور ایسے آدمی ہوتے جو صاحبزادہ صاحب جیسا علم رکھتے۔بادشاہ کے کہنے پر آپ نے بیوی بچوں کو بھی خوست سے کابل بلوالیا اور یہیں رہنے لگے۔۱۸۹۴ ء میں افغانستان اور ہندوستان کی سرحدیں مقرر کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی طرف سے کچھ افسر مقرر ہوئے تھے۔افغانستان کے اس وفد کا سب سے بڑا افسر بادشاہ کا چچا سردار شیر بندل خان تھا اور اس کے نائب شہزادہ صاحب تھے۔بادشاہ خود فوج کے ساتھ ان کو شہر سے باہر کافی دور تک چھوڑنے کے لئے آیا۔شہزادہ صاحب نے اس کام میں حکومت افغانستان کے نمائندہ کے طور پر بہت اہم خدمات ادا کیں۔اس موقع پر شہزادہ صاحب کی دونوں ملکوں کے افسروں کے ساتھ یادگاری تصویر بھی موجود ہے۔جب افغانستان کا بادشاہ عبدالرحمن فوت ہوا اور اس کے بیٹوں میں سے کسی کو بادشاہ بنانے کا سوال پیدا ہوا تو شہزادہ صاحب کے مشورے سے تجویز ہوئی کہ بادشاہ کے بڑے بیٹے امیر حبیب اللہ خاں کو تخت پر بٹھایا جائے جو اپنے دوسرے بھائیوں کی نسبت زیادہ عالم اور انصاف پسند تھا۔اس موقع پر ایک بہت شاندار در بار لگا جس میں دور دور سے آکر لوگ شامل ہوئے۔حکومت افغانستان کے طریقہ کے مطابق ملک کے سب سے عزت والے اور بڑے آدمی نے بادشاہ کے سر پر پگڑی باندھ کرتا جپوشی کی رسم ادا کرنی تھی۔اس کام کے لئے بادشاہ نے