حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 12 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 12

21 20 شک رہ گیا ہے۔بحث کا ثالث اور منصف ڈاکٹر عبدالغنی گجراتی تھا جو شہزادہ صاحب کا سخت مخالف تھا۔اس نے اور سب مولویوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ بحث کے کاغذات بادشاہ کو نہ دکھائے جائیں اور لوگوں میں مشہور کر دیا جائے کہ شہزادہ صاحب کو شکست ہوئی ہے اور بادشاہ کو صرف اطلاع کر دی جائے کہ شہزادہ صاحب کی باتیں غلط ہیں اور ہم ان کے کفر کا فتویٰ دیتے ہیں ورنہ اگر بحث کے اصل کا غذات اور شہزادہ صاحب کے جوابوں کا عام لوگوں کو پتہ لگا تو خطرہ ہے کہ لوگ احمدی نہ ہو جائیں۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور بادشاہ کو کاغذات نہ بھیجے گئے۔ایک شخص نے بعد میں اس بحث کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور کہا کہ میں خود اس میں شامل تھا شہزادہ صاحب کے دلائل قرآن اور حدیث کے مطابق تھے۔مولویوں کے پاس کہنے کے لئے سوائے کچھ حوالوں کے کوئی خاص بات نہ تھی اور وہ شہزادہ صاحب پر غالب نہ آسکے کیونکہ ان کو شہزادہ صاحب جتنا علم نہیں تھا بلکہ شہزادہ صاحب سے بحث کرنے والوں کا لیڈ راور کابل کا قاضی اور مفتی عبدالرزاق خود مانتا تھا کہ ہمیں شہزادہ صاحب کی طرح قرآن کا وسیع علم نہیں تھا۔بحث ختم ہونے کے بعد شہزادہ صاحب کو ایک جلوس کی صورت میں بازار سے گزار کر شاہی قلعہ میں لے گئے اور بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔یہاں مولویوں اور عام لوگوں کا بڑا ہجوم تھا وہاں بادشاہ کا بھائی اور شہزادہ صاحب کا سخت مخالف نصر اللہ خان بھی موجود تھا۔اس نے پوچھا کیا فیصلہ ہوا اس پر منصوبہ کے مطابق مولویوں نے اور دوسرےلوگوں نے شور مچایا کہ شہزادہ صاحب ہار گئے ہیں اور کافر ہیں۔بادشاہ نے شہزادہ صاحب سے کہا مولویوں کا فتویٰ تو کافر ہونے اور سنگسار کرنے کا ہے اگر آپ تو بہ کر لیں تو سزا سے بچ سکتے ہیں۔پھر سردار نصر اللہ خاں نے علماء کا لکھا ہوا فتویٰ لوگوں کو پڑھ کر سنایا اور خود ہی لوگوں سے کہنے لگا آپ تسلی رکھیں بادشاہ سلامت آپ کی مرضی کے خلاف فیصلہ نہیں کریں گے اور ضرور علماء کے کہنے پر عمل کریں گے۔وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ صاحبزادہ عبداللطیف کو کچھ مہلت دے کر تو بہ کا موقع دیں۔اس کے بعد مجمع بکھر گیا اور شہزادہ صاحب کو قید خانہ بھیج دیا گیا۔آپ قید خانہ میں یہ دعا پڑھتے تھے رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (ال عمران ) یعنی اے ہمارے خدا! ہمارے دل کو ٹھوکر سے بچا اور ہدایت کے بعد ہمیں پھسلنے سے محفوظ رکھ اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عنایت کر کیونکہ ہر ایک رحمت تو ہی بخشتا ہے۔جان بچانے کا آخری موقع اگلے دن ۱۴ / جولائی سوموار کی صبح شہزادہ صاحب کو بادشاہ کے دربار میں پھر بلایا گیا جہاں بہت سارے لوگ موجود تھے۔بادشاہ نے پھر تو بہ کرنے کے لئے کہا آپ نے پورے ایمان اور دلیری سے جواب دیا مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔ان باتوں کو بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ سنی سنائی باتیں نہیں ہم خود اس جگہ موجود تھے اور لوگ بہت زیادہ تھے۔شہزادہ صاحب ہر دفعہ بادشاہ کے سمجھانے پر بڑے زور سے انکار کرتے تھے۔۔۔۔ایا معلوم ہوتا ہے آپ دل میں فیصلہ کر چکے تھے کہ آپ سچائی کی راہ میں جان دے دیں گے۔سامنے موت دیکھ کر بھی اس بہادر شہزادے کے قدم ذرا برابر پیچھے نہ ہٹے اور بادشاہ کے بار بار کہنے کے باوجود آپ نے ایمان نہ چھوڑا۔بادشاہ نے تنگ آکر ایک لمبا چوڑا کا غذ لکھا۔اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کر کے لکھا کہ ایسے کافر کی سزا موت ہے۔پھر وہ فتویٰ شہزادہ