حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 13
23 22 صاحب کے گلے میں لٹکایا گیا اور بادشاہ نے حکم دیا کہ صاحبزادہ صاحب کی ناک میں سوراخ کر کے رسی ڈالی جائے اور رسی سے کھینچ کر ان کو سنگسار کرنے کی جگہ پر لے جایا جائے۔چنانچہ اس بے گناہ شہزادے کی ناک میں سوراخ کر کے سخت دکھ دے کر رسی ڈالی گئی اور ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے اور گالیاں دیتے ہوئے آپ کو اس جگہ لے گئے جہاں آپ کو مارنا تھا۔۔۔اس شہزادے کے ہاتھ میں لوہے کی ہتھکڑیاں تھیں اور ناک میں رسی تھی جس کو وہ ظالم کھینچ رہے تھے لیکن اس وقت بھی وہ خوش خوش تیزی کے ساتھ قتل ہونے کے لئے جار ہا تھا۔کسی مولوی نے پوچھا آپ خوش کیوں ہیں؟ اس شہزادے نے جواب دیا یہ ہتھکڑیاں جو دیکھ رہے ہواصل میں ہتھکڑیاں نہیں ہیں بلکہ محمد مصطفے ﷺ کے دین کا زیور ہے۔بے شک میں وہ جگہ دیکھ رہا ہوں جہاں مجھے زندہ زمین میں گاڑ کر پتھروں سے ہلاک کر دیا جائے گا لیکن مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے پیارے مولیٰ سے مل جاؤں گا۔افغانستان کا بادشاہ بھی اپنے وزیروں، مفتیوں ، مولویوں اور درباریوں کے ساتھ یہ نظارہ دیکھتا ہوا سنگسار کرنے کی جگہ تک پہنچا اور شہر کابل کے ہزاروں لوگ بھی یہ تماشا دیکھنے آئے۔بے گناہ شہزادہ کی راہ مولیٰ میں دردناک قربانی شہر کا بل کے مشہور قلعہ بالا حصار کے جنوب میں امرائے کابل کے پرانے قبرستان میں اڑھائی فٹ گہرا ایک گڑھا کھودا گیا جس میں اس شہزادے کو کھڑا کر کے کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا۔پھر اس حالت میں بادشاہ شہزادہ صاحب کے پاس گیا اور کہا اب تمہارا آخری وقت ہے اگر تم اب بھی قادیانی مسیح کا انکار کر دو تو میں تمہیں بچالوں گا۔اپنی جان پر اور اپنے بال بچوں پر رحم کرو۔پیارے بچو! جانتے ہو اس وقت جب موت بالکل سامنے کھڑی تھی۔جب آدھا جسم زمین میں گڑ چکا تھا اور لوگ ہاتھوں میں پتھر لئے انتظار میں تھے کہ جو نہی حکم ہو پتھروں کی بارش کر دیں۔۔۔۔۔۔۔ان خطر ناک لمحات میں بھی آخری وقت میں اس بہادر نے بڑی دلیری سے کہا سچائی سے انکار کیونکر ہو سکتا ہے۔جان کیا ہے اور بال بچے کیا چیز ہیں جن کے لئے میں ایمان چھوڑ دوں۔مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔میں حق کے لئے جان دے دوں گا۔سب سے پہلا پتھر قاضی نے مارا جس کے بعد بد قسمت بادشاہ نے آپ پر پتھر پھینکا پھر کیا تھا چاروں طرف سے شہزادہ صاحب پر پتھروں کی بارش شروع ہوگئی اور ہزاروں پتھر آ کر ان پر پڑنے لگے۔پتھروں کی اتنی بارش ہوئی کہ مرحوم کے سر پر پتھروں کا ایک ڈھیر جمع ہو گیا اور آپ کا جسم پتھروں کے اس ڈھیر میں دب گیا اور روح اپنے پیارے اللہ کے حضور حاضر ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔وہ شہزادہ ایک بکرے کی طرح ذبح کیا گیا اور باوجو د سچا ہونے کے اس کا جسم پتھروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا مگر اس نے ایسا صبر دکھایا کہ ایک آہ بھی اس کے منہ سے نہ نکلی۔۔۔یا جولائی ۱۹۰۳ ء کی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس واقعہ کی اطلاع میں سال پہلے ہی دے دی گئی تھی۔آپ کو خدا نے بتایا تھا کہ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور اس سے مراد شہزادہ صاحب اور آپ کے شاگر د حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب تھے۔شہزادہ صاحب کی شہادت کے بعد آپ کی بیوی شاہجہاں بی بی صاحبہ اور ان کے یتیم بچوں پر بہت ظلم کئے گئے اور قید میں رکھا گیا مگر انہوں نے شہزادہ صاحب کی وصیت کے مطابق بہت صبر کیا اور شہزادہ صاحب کی طرح یہی کہتی رہیں کہ اگر احمدیت کی وجہ سے میں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے (قتل) کر دئیے جائیں تو میں اس پر خدا تعالیٰ کا شکر کروں گی