حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 49
98 97 ذہن اس کو رد کر رہا تھا۔لیکن جو وہ سن رہی تھی دماغ اس کو جذب کرتا جا رہا تھا۔اس کے نتیجے میں جب اس نے شعوری دور میں علم سیکھا تو وہ سٹور ہوکر دب گئیں۔اور اس کو پتہ نہیں تھا کہ میرے اندر کیا قابلیت موجود ہے۔جب برقی آلوں نے دماغ کے اس حصہ کو فعال کیا تو اچانک قوت پیدا ہوگئی اور پتہ لگا کہ انسان کے ذہن کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے اور آپ ہی آپ علم کو جذب کرتا چلا جاتا ہے۔دماغ میں علم کے سٹور اس پر بہت ریسرچ ہوچکی ہے اور پتہ چلا ہے کہ دماغ کے بے شمار ایسے ہیں جن میں علم کے سٹور بھرے ہوئے ہیں۔ہم نے کسی وقت کوئی چیز سیکھی تھی اور وہاں محفوظ ہوگئی ہے۔ان کو مستعدی کے ساتھ استعمال کرنے کی طاقت ہم میں ہو یا نہ ہولیکن دماغ میں وہ چیزیں موجود ہیں۔دماغ ریکارڈ کرتا ہے ایک اور تجربہ جس کے متعلق بعض سائنسدان کہتے ہیں کہ جو کچھ سیکھنا یا سکھانا ہو ریکارڈ کرلو اور رات بھر ہلکی آواز میں چلا کر خود سوجاؤ۔ساری رات دماغ اس کو اخذ کرتا رہے گا۔ہوسکتا ہے کہ جب تھوڑی دیر کے لئے گہری نیند میں آجائے تو اس وقت نہ کرے۔لیکن ساری رات نیند کی کوئی سٹیج (منزل) ہو ذہن اس کو نوٹ کرتا چلا جاتا ہے۔نیز یہ بھی تحقیق سے ثابت ہے کہ اس سلسلے میں کیسٹ ریکارڈر نہایت با اثر کردار ادا کرسکتا ہے۔جو کچھ سکھانا ہو اس کا کیسٹ لگادیں تو وہ بچے کا ذہن اخذ کرتا رہتا ہے۔اگر سویا ہوا ہو تو اس کا ذہن اخذ کرتا رہتا ہے۔اور نوٹ کرتا ہے۔عظیم الشان دماغ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عظیم الشان دماغ دیا ہے کہ سائنسدان جنہوں نے دماغ پر غور کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم دماغ کا ہزارواں حصہ بھی استعمال نہیں کر سکے۔آج تک ہم سب سے کم جس چیز کو سمجھ سکے ہیں وہ انسانی دماغ ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا اکثر حصہ بغیر استعمال کے ہی پڑا رہ جاتا ہے۔جس طرح دُنیا کے پسماندہ ممالک میں ان کے اکثر ذرائع اور وسائل بغیر استعمال کے پڑے رہ جاتے ہیں۔اس طرح ان بے چاروں کے دماغ بھی بغیر استعمال کے پڑے رہ جاتے ہیں۔پس یہی دوسرے لوگوں اور مسلمانوں میں فرق تھا۔اس قوم نے اپنے دماغ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی روشنی میں استعمال کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے پھل عطا کئے۔دینی ترقیات بھی عطا کیں اور دنیاوی ترقیات بھی۔بچپن کا حافظہ اور یہ تو سب کو تجربہ ہے کہ بچپن کی یاداشت کتنی زیادہ ہوتی ہے اور بڑے ہو کر بھی بچپن کی باتیں یاد آتی رہتی ہیں۔پس یہ بات سو فیصدی ہے کہ ذہن بچپن میں ضرور اخذ کرتا ہے اور وقت آنے پر اس سے درست فائدہ اٹھاتا ہے۔گیارہ سال تک انتظار اسی طرح زبانوں کے متعلق ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ گیارہ سال کی عمر تک آپ جتنی چاہیں زبانیں سیکھیں آپ کے اوپر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ذہن کا ایک حصہ ایسا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔گیارہ سال تک وہ انتظار کرتا رہتا ہے۔پھر وہ ناکارہ ہو