حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 48
96 95 زریں اصول وو حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اے مسلمانوں اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کیا کرو تاکہ تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ نیکی سے پیش آئے۔یعنی آگے کی بجائے پیچھے دیکھو“۔(ادب المفرد) بچے کے کانوں میں اذان واقامت کی فلاسفی نئی تحقیق کی روشنی میں از خطاب - حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمۃ اللہ تعالیٰ الفضل 4 مئی 1983) پر حکمت تعلیم : جب بچہ پیدا ہو اس کے کانوں میں اذان اور اقامت کہنے کی پُر حکمت تعلیم ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 1500 سال قبل دی۔ایسے وقت میں دی جبکہ ملک عرب جہالت کا گہوارہ تھا۔ساری جہالتیں وہاں پنپ رہی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے وہاں ہمارے پیارے آقا کو مبعوث فرمایا اور اعلان فرمایا: يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعة 3) گویا بتایا کہ معجزہ اس کو کہتے ہیں کہ وہ ملک ساری دُنیا میں سب سے زیادہ جاہل ملک اور جس میں بسنے والے اُمی محض ہیں انہی میں سے۔میں ایک آدمی کو چنتا ہوں اور اچانک تم دیکھتے ہو کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وہ انہیں تعلیم بھی دینے لگ گیا ہے اور پس پردہ حکمتیں اور فلسفے بھی بیان کرنے لگ گیا ہے۔اس شان کا معلم ہمیں عطا ہوا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے حصول پر بہت زور دیا ہے اور علم کے متعلق نصیحتیں فرمائیں۔گویا جس دن اسلام پیدا ہو رہا تھا اس دن دُنیا کے علوم بھی ساتھ ساتھ پرورش پارہے تھے۔پس آپ کی عطا کردہ تعلیم نہایت پر حکمت اور ہمیشہ اثر انداز ہونے والی سائنسدانوں کی تحقیق ہے۔اور آج پندرہ سو سال بعد موجودہ تحقیق سے سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ انسانوں کے دماغ کا ایک حصہ ایسا ہے کہ بچپن میں بچہ جو سنتا ہے وہ اس کو اخذ کرتا ہے اور محفوظ بھی کر لیتا ہے اور پھر بھی وقت آنے پر خود بخود یاد آجاتا ہے۔حیرت انگیز واقعہ چنانچہ ایک حیرت انگیز واقعہ معلوم ہوا ہے کہ ایک بچی جس کو انگریزی کے سوا کوئی زبان نہیں آتی تھی اور کسی دوسری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتی تھی۔ایک دفعہ جب اس کے دماغ کا آپریشن ہونے لگا اور اس کے ڈاکٹروں نے سوئیاں گزارنی شروع کیں تو ایک جگہ پہنچ کر وہ نہایت روانی سے جرمن بولنے لگ گئی کیونکہ دماغ کا ایک حصہ متحرک کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ جرمن زبان بولنے لگ گئی۔ڈاکٹر بڑے متعجب ہوئے کہ کیا قصہ ہے۔اس کے ماں باپ سے سوال کیا۔انہوں نے کہا ہم نے اسے کبھی جرمن نہیں سکھائی پھر گرید کر سوالات پوچھنے پر ماں کو یاد آگیا کہ اصل میں اس کی دایہ ایک جرمن تھی اور اس کی عادت تھی کہ وہ بیٹھی آپ ہی آپ منہ میں باتیں کیا کرتی تھی۔اب یہ اس کے بچپن کا تھوڑا سا دور تھا اس وقت اس کی کوئی شعوری کیفیت ایسی نہیں تھی کہ وہ سیکھنا چاہتی تھی ( کانشس برین) اس کا شعوری