حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 50
100 99 جاتا ہے اور اس سے کچھ بھی یاد نہیں ہوتا۔اس طرح دماغ کا یہ حصہ گیارہ سال تک انتظار کرتا رہتا ہے کہ اسے استعمال کیا جائے جو لوگ اسے استعمال نہیں کرتے ضائع کر دیتے ہیں۔دماغ کی قدر جائے پس دماغ کی قدر کرنی چاہئے اور اسی حکمت کے تحت ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بچپن میں سات 7 سال تک بچے کو نماز یاد کرادینی چاہئے اور جب دس سال کا ہو کر گیارہویں سال میں لگ اور نماز نہ پڑھے تو پابندی کرنے کے لئے اسے سرزنش کریں تاکہ نماز کی عادت اسی عمر میں پختہ ہو جائے ورنہ اس کے بعد نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ذہن ریکارڈ کرتا ہے پس یہ بات درست ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ذہن ضرور ریکارڈ کرتا ہے اور پھر اس سے استفادہ بھی کرتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا سسٹم ضرور ہے ورنہ یہ سارا بیکار تھا اور اللہ تعالیٰ کوئی باطل اور بیکار چیز پیدا نہیں کرتا۔چنانچہ پہلے دن بچے کے ایک کان میں اذان دینا اور دوسرے کان میں تکبیر یعنی اقامت کہنا یہ بھی ایک بن جاتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف لغو فعل قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرہی نہیں سکتے اگر لغو ہوتا۔۔۔۔آپ کی زندگی کا ایک ذرہ بھی تعلیم قرآنی کے خلاف نہیں۔پس یقینا اللہ تعالیٰ نے سب کا نشس برین سے کانشس برین کے استفادہ کا نظام قائم کیا ہوا ہے۔اور اس کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔اور کا قائم فرمودہ علمی اور تربیتی نظام نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ قیامت تک کے استفادہ کے لئے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔پس آج کے اس پر آشوب دور میں جب کہ تمام دنیا میں بے چینی اور خوف و ہراس اور فساد اور لڑائیاں پھیلی ہوئی ہیں اور دُنیا امن کی متلاشی ہے۔ہم ان کو بتادینا چاہتے ہیں کہ اگر چاہتے ہو کہ دُنیا میں امن قائم ہو۔ایک دوسرے کا احترام دلوں میں قائم ہو اور عزت و وقار قائم ہو تو یہ صرف اور صرف ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حسین تعلیم پر عمل کر کے ہی ہوسکتا ہے۔خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمادے کہ ہم اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری اور حسین تعلیم پر صدقِ دل سے عمل کریں۔اور اس میں ہی ہماری جماعت اور قوم کی بھلائی ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین! حرف آخر وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے اُمیدوار ( درشین) پس یہی وہ انمول خزانے ہیں جو ہمارے اس زمانے کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دو جہانوں کے بادشاہ سے پاکر تقسیم کئے ہیں اور جو ہمیں عطا ہوئے ہیں اور ان میں سے جو ہم چاہتے ہیں لے لیتے ہیں اور لیتے رہیں گے۔اور اپنے ایمانوں کو جلا بخشتے رہیں گے۔انشا اللہ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاء