حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 47
94 93 مہربانی فرما کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی۔یعنی ماں باپ سے محبت سے اور نرمی سے ساتھ بات کرو یعنی رحم کے جذبے کے تحت عاجزی اور انکساری کے بازوؤں کو محبت اور رحم کے ساتھ جھکائے رکھو اور ان کے لئے ہمیشہ خدا سے دُعا مانگتے رہو کہ خدایا جس طرح میرے ماں باپ نے مجھے بچپن میں جبکہ میں بالکل بے سہارا تھا محبت اور شفقت کے ساتھ پالا اسی طرح تو اُن سے بڑھاپے میں اُن پر شفقت اور رحم کی نظر رکھ۔آمین پس یہ حقیقت ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ ہم اتنے چھوٹے تھے کہ کچھ بھی کر نہ سکتے تھے۔نہ بول سکتے تھے نا کھا پی سکتے تھے نہ چل پھر سکتے تھے اس وقت ہمارے ماں باپ نے بڑی محبت سے اور بڑی تکلیفیں اٹھا کر ہمیں پالا ، کھلایا ، پلایا پڑھایا لکھایا اور ہر طرح سے ہمارا خیال رکھا۔اگر ہم بیمار ہو جاتے تو راتوں کو جاگ جاگ کر ہمارا خیال رکھتے۔اور ہمارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرتے رہتے۔اسی لئے ہمارے پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں باپ کی اس خدمت گزاری اور احسان کے بدلے میں ہمارے لئے بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا فرض قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جس شخص نے اپنے والدین کے بڑھاپے کا زمانہ پایا اور پھر اس نے ان کی خدمت کے ذریعے اپنے واسطے جنت کا دروازہ نہیں کھولا وہ بڑا ہی بدقسمت انسان ہے۔نیز فرمایا : کتنا ہی سعید اور خوش قسمت وہ انسان ہے جو محبت اور خلوص سے والدین کی خدمت کر کے جنت کا وارث بنتا ہے۔۔۔۔۔نیر فرمایا جس شخص کے والدین زندہ ہوں اور ضعیف ہوں وہ اُن کی خوب خوب خدمت کرے تو اس کو حج کا ثواب مل جائے گا۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول تمام لوگوں میں سے میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا تیری ماں! اسی صحابی نے پھر عرض کی یا رسول اللہ اس کے بعد کون آپ نے مکرر ارشاد فرمایا 'تیری ماں۔اُس نے پھر پوچھا ، پھر کون آپ نے فرمایا 'تیری ماں اس نے پھر پوچھا پھر کون آپ نے فرمایا تیرا باپ اور پھر درجہ بدرجہ دوسرے لوگ۔اس مبارک حدیث سے والدین کے حق کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ” ماں باپ کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کی خوشی ہے اور ماں باپ کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔اسی لئے ہمارے پیارے آقا نے ارشاد فرمایا ” دوسرے گناہوں کی سزا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو قیامت تک اُٹھا رکھے لیکن ماں باپ کو دکھ دینے والے کو دُنیا میں ہی ضرور سزا دیتا ہے۔پس جو نیک اچھے اور فرمانبردار بچے ہوتے ہیں وہ خدا اور اس کے رسول کے فرمان کی روشنی میں ماں باپ جیسی نہایت قیمتی اور بابرکت نعمت کی قدر کرتے ہوئے ان کی خوب خوب خدمت کرتے ہیں اور ان کے لئے دعائیں بھی کرتے رہتے ہیں۔وہ ماں باپ بہت ہی خوش قسمت ہیں جو اپنے پیچھے دُعائیں کرنے والی اولاد چھوڑ جاتے ہیں اور وہ بچے بھی بڑے خوش نصیب ہیں جو والدین کی خوشنودی اور محبت بھری دُعائیں حاصل کر کے آخرت میں بھی جنت کے وارث بنتے ہیں اور دُنیا میں بھی کامیابیاں حاصل کرتے رہتے ہیں۔