حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 46 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 46

92 91 نہیں اسے جھوٹ بولنے کی عادت کسی نے لگادی۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی کے ہاں تشریف لے گئے۔وہاں ان کی بی بی اپنے بچے کو بلا رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ 'یہاں آؤ تو میں تمہیں کچھ دوں، آپ نے پوچھا ” تم اسے کیا دوگی، عرض کیا کہ چھوہارا آپ نے فرمایا۔” اگر تم بچوں سے وعدہ کروگی اور پھر ان کو کچھ نہ دوگی تو ایک جھوٹ کا گناہ تمہارے اعمال میں لکھا جائے گا “۔اگر والدین بچوں سے جھوٹ نہ بولیں تو دنیا میں جلد ایک راستباز قوم پیدا ہو جائے گی آپ نے فرمایا ايا كم والكذب“ تم کبھی جھوٹ نہ بولو۔عليكم بالصدق“ تم ہمیشہ سچ بولو۔كلو من الطيبت“ پاکیزہ چیزیں کھایا کرو۔المسلم مراة المسلم ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہے۔یعنی مومن اپنے مسلمان بھائی کا آئینہ ہے۔جب کوئی اس میں عیب دیکھتا ہے تو اُس کو اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے آپ نے فرمایا: (اسوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ 520) اے مسلمانوں تم اپنے آئینے صاف رکھو، لوگ تمہارے آئینے میں میری تصویر دیکھیں گے“ پیارے بچوں کے لئے جنت ہی جنت اطاعت والدین۔خدمت والدین۔اللہ تعالیٰ نے دُنیا میں ہمارے لئے بے شمار نعمتیں پیدا کی ہیں۔ان سب میں ایک بہت ہی قابل قدر نعمت ہمارے لئے والدین کا وجود ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم احمدی ہیں اور ہمارا مذہب ہمیں اطاعت اور فرمانبرداری سکھاتا ہے۔۔۔۔۔۔پس ( دین حق ) میں جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے وہاں ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَلا تَقُل لَّهُمَا رُقٍ وَّلَا تَنْهَرُهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ، وَا خُفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْ حَمُهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًاه وو (بنی اسرائیل : 25،24) ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔اگر ان میں سے کسی ایک پر یا دونوں پر تیری زندگی میں بڑھاپا آجائے اور اگر تمہیں اپنی ناسمجھی کی وجہ سے ان کی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو انہیں اُف تک نہ کہو اور ان کے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کرو اور نہ ہی انہیں کبھی جھڑ کو۔والدین کو (ان کو کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ) اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑ کو اور اُن سے ہمیشہ نرمی سے بات کرو اور رحم کے جذبے کے ماتحت ان کے سامنے عاجزانہ رویہ اختیار کر اور اُن کے لئے دعا کرتے وقت کہا کرو کہ اے میرے رب ان پر