حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 10
20 20 19 ہے تو نماز مختصر کر دیتا ہوں۔یہ بچے پر بھی رحم ہے اور ماں پر بھی۔(بخاری کتاب الصلوۃ جلد اوّل حدیث 669، ص 456) نانا کا نواسوں سے پیار حضرت حسن و حسین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد پیار تھا۔ایک دفعہ آپ ان کو پیار کر رہے تھے اور ان کو چوم رہے تھے۔ایک بدو سردار آیا اس نے جب یہ نظارہ دیکھا تو کہا یا رسول اللہ ! آپ بچوں کو پیار کر رہے ہیں؟ میرے تو دس بچے ہیں لیکن میں ایک کا بھی منہ نہیں چومتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر اللہ تمہارے دل سے محبت چھین لے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔نیز فرمایا۔مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرُ حَم جو شخص کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔(ادب المفرد هیچ بخاری، کتاب الاول جلد سوم ص 344، الفضل سيرت النبی 1983 ص17 ) اسی طرح ایک دفعہ یہ بھی فرمایا:- أَكْثِرُو قِبْلَةَ اَوْلَادِكُمْ فَإِنَّ لَكُمْ بِكُلِ قِبْلَة دَرَجَةٌ فَى الجَنَّةِ اے لوگو! بچوں کو چوما کرو کیونکہ ان کو چومنے کے بدلے میں تم کو جنت میں ایک درجہ ملے گا۔( صحیح بخاری، تشخیز الاذہان ربوہ مئی 1993 ص 11، الادب المفرد باب رحمت العيال) نیز یہ بھی فرمایا:- لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمُ صَغِيرَنَا يَعْرِفْ شَرَف كبيرنا ( ترمذی کتاب البر والصله ) جو بچوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا سلوک نہیں کرتا اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جنت کی خوشبو تھا۔علاوہ ازیں ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو ہی دیکھ کر فرمایا تم بے شک ماں باپ کو بھیل بھی بناتے ہو اور بزدل بھی بناتے ہو لیکن تم جنت کی خوشبو بھی ہو“۔(سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ص 247 ، ترمذی ) بچہ سوار ہو جاتا تو سجدے سے سر نہ اُٹھاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں حسن اور حسین کو بے حد عزیز رکھتے تھے ان کو کندھوں پر بٹھاتے اور گود میں اٹھاتے رہتے۔آپ نماز میں ہوتے تو دونوں بچے پیٹھ پر سوار ہو جاتے مگر آپ سجدے سے اس وقت تک سر نہ اٹھاتے جب تک بچے خود ہی نہ اتر جائیں۔(ابو داؤد کتاب الادب، ، الفضل 3 مارچ 2004) سواری بھی پیاری اور سوار بھی پیارا ایک دفعہ پیارے نواسے نے نانا سے کہا میں اونٹ پر سواری کروں گا کیونکہ آگے ایک بچہ اونٹ پر جا رہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس کو کندھے پر بٹھا لیا اور اونٹ کی طرح چلنا شروع کر دیا اور آواز بھی لگانے لگے۔اس طرح حسنؓ اور حسین خوش ہو گئے۔کسی نے راستے میں دیکھ کر کہا کتنی پیاری سواری ہے تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوار بھی کتنا 66 پیارا ہے۔ترندی ص 312 ، موج کوثر صفحہ 212، 213)