حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 11
21 24 بچے کو گود میں اٹھا کر نماز ادا کی آئیے اب ایسا ہی ایک اور حسین نظارہ دیکھتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی لختِ جگر امامہ سے شفقت۔حضور نماز پڑھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کی بیٹی کو اُٹھایا ہوا تھا جب رکوع اور سجدہ کرتے تو اس کو نیچے اُتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو اُس کو پھر اُٹھا لیتے غرض کہ بچوں سے بے حد محبت کرتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات غیر معمولی طور پر سراپا رحمت و برکت تھی۔(صحیح بخاری کتاب الادب جلد سوم ص 344) مسجد کے آداب آپ بچوں کو بھی برابر مسجد میں لے جاتے اور نماز میں شریک فرماتے اور مسجد کے آداب سے بھی آگاہ فرماتے۔اور ان کی تربیت اور بہبودی میں کوشاں رہتے نیز فرماتے۔جو شخص بد بودار درخت ( پیاز لہسن وغیرہ) کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے کیونکہ جس چیز سے آدمیوں کو تکلیف ہوتی اُس سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔حضور ہے ( صحیح مسلم ، رسول اللہ کی باتیں ص 46 حدیث نمبر 41) حسین نظارہ حضرت اسامہ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ میں کسی ضروری کام کے لئے ورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔تو آپ اپنی گود میں چادر کے نیچے کوئی چیز چھپائے تشریف فرما تھے۔میرے دریافت کرنے پر چادر اٹھائی اور فرمایا ”یہ میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور ان سے بھی محبت کرتا ہوں جو ان سے محبت کا سلوک کرے۔“ عجیب پیارے انداز میں بچوں سے لاڈ پیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عزیز بیٹی حضرت فاطمہ کے بیٹوں حسن اور حسینؓ سے بہت پیار کرتے۔انہیں گود میں اٹھاتے سینے سے لگاتے ان کا منہ چومتے۔عجیب انداز میں ان سے لاڈ پیار کرتے۔آپ کے صحابی حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا۔ایک دن حسین کو پکڑا ہوا ہے اس کے پاؤں حضور کے پاؤں پر ہیں اور آپ فرما رہے ہیں۔آجاؤ، اوپر چڑھو۔یہاں تک کہ حسین کے پاؤں حضور کے سینے پر آگئے پھر حضور نے حسین کو کہا منہ کھولو۔حسینؓ نے منہ کھولا تو حضور نے منہ چوم لیا اور فرمایا بارالہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ۔(سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم 253) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں بازو پھیلا دیے ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص نے کھانے پر بلایا تھا۔آپ کے ساتھ بعض صحابہ بھی تھے۔گلی میں یہ بھی تھے۔گلی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حسین کو دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ سے آگے بڑھے اور دونوں بازو پھیلا دیے۔حسین کبھی ادھر دوڑتے کبھی اُدھر۔حضور نے اسے پکڑا۔ایک ہاتھ حسینؓ کی ٹھوڑی پر رکھا اور دوسرا سر کے نچلے حصے پر اور حسین کا منہ ( ترمذی ابواب المناقب) چوما۔علی اور بچوں کو بھی بلاؤ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین حضرت اُمِ سلمی کے گھر تشریف فرماتھے حضرت فاطمہ حلوہ بنا کر لائیں۔حضور نے فرمایا علی اور 22 22