حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 9
18 17 اے بچے جب تم گھر میں جاؤ تو پہلے سلام کیا کرو یہ تیرے لئے اور تیرے گھر والوں کے لئے باعث برکت ہے۔ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا سلام بہتر ہے آپ نے فرمایا جس کو تو جانتا ہے اس کو بھی سلام کہے اور جسے نہیں جانتا اُسے بھی سلام کہے۔آپ کا ارشاد ہے:۔افْذُو السَّلام یعنی السلام علیکم کہنے کو رواج دو اور پھیلاؤ مجھے بھی پیار کیا احادیث الاخلاق ص 86 ، 118) جاوید بن تمرہ بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر آپ اپنے گھر کی طرف چلے میں بھی ساتھ ہولیا کہ ادھر سے چند لڑکے نکل آئے آپ نے سب کو پیار کیا اور مجھے بھی پیار کیا۔بچوں کی دلجوئی (الفضل سیرت النبی نمبر 1983 ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کی بہت دلجوئی فرماتے حرم مبارک سے نکل کر مسجد تشریف لاتے تو راستے میں بلا امتیاز بچوں کو پیار کرتے اور گود میں اٹھا لیتے اور اگر آپ کے پاس کوئی کھانے کی چیز ہوتی تو تھوڑی تھوڑی سب بچوں میں تقسیم کر دیتے۔اور ان کو سمجھاتے جاتے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کھانا شروع کرو۔سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔آہستہ کھاؤ اپنے سامنے سے کھاؤ۔بچے کو جو چیز پسند ہوتی اپنے ہاتھ سے اُٹھا کر دیتے اور محبت سے کھلاتے۔ایسا کرنے کا مقصد خدا کا شکر گزار بندہ ہونے کے علاوہ بچوں میں شکر گزار بندہ بننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوتا۔(زاد المعاد ، اسوہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ص 163) خطا پر سرزنش نہ کرتے آپ بچوں کو سیر کے لئے بھی ساتھ لے جاتے ان کے کھیل میں بھی شریک ہوتے۔اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بچوں سے کوئی نقصان ہو جائے یا کام میں دیر ہو جائے تو گھر والے سخت سرزنش کرتے ہیں مگر ہمارے پیارے آقا رؤف و رحیم کا یہ حال تھا کہ اپنے غلاموں سے بھی سخت الفاظ نہ بولتے تھے بلکہ کسی کو کبھی جھڑ کا نہ ڈانٹا۔بچوں کو جسمانی سزا دینے کے سخت (شمائل ترمذی الفضل سیرت النبی منمبر 1983) خلاف تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کی معمولی تکلیف کو رفع کردیتے۔آپ بچوں کو کبھی تکلیف میں نہ دیکھ سکتے۔آپ ﷺ نے کبھی کسی بچے پر ہاتھ نہیں اُٹھا یا۔زندگی بھر کسی بچے کو نہیں پیٹا ، آپ بچوں کی معمولی تکلیف پر تڑپ اٹھتے اور اسے رفع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔بچے اور ماں پر رقم الفضل سيرة النبي نمبر 1983) ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے آرام و سکون کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔فرماتے تھے کہ میں نماز شروع کرتا ہوں تو ارادہ ہوتا ہے کہ دیر سے ختم کروں مگر کسی بچے کے رونے کی آواز کان میں پڑ جاتی