حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 7 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 7

14 13 (سیرت ابن ہشام جلد اول ص 116) مقدس بچہ اور موعود نبی کی پیشنگوئی جب آپ گیارہ بارہ سال کے تھے تو اپنے چچا ابوطالب کے ہمراہ ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کی طرف گئے وہاں ایک عیسائی درویش نے جس کا نام بحیرہ تھا آپ سے ملاقات کی اور اس کی دور بین نگاہ نے محسوس کر لیا کہ یہ وہی بچہ ہے جو بڑا ہو کر نبی بننے والا ہے اور جس کا ہمیں انتظار ہے۔چنانچہ اس عیسائی راہب نے آپ کے چچا کو تاکید کی کہ آپ اس بچے کی خاص حفاظت کریں اور اس کو یہودیوں اور عیسائیوں کے شر سے بچا کر رکھیں۔(ابن ہشام جلد اول جز اول صفحہ 118، حیات رسالت مآب صفحہ 73) آپ بچپن میں ہی ماں باپ کی محبت سے محروم ہو گئے تھے اور یتیم ہو چا کی کفالت میں آ گئے تھے اس لئے آپ بہت ہی حساس واقع ہوئے تھے۔جب تمام گھر کے بچے کھیل کود میں مشغول ہوتے وہاں آپ خاموشی سے بچی کا کام میں ہاتھ بٹاتے جب کھانے کا وقت آتا بچے ماں کے گرد جمع ہو کر کھانے کے لئے شور مچا دیتے اور ہر ایک دوسرے سے زیادہ حصہ چھین لے جانے کی کوشش کرتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت نہ تھی۔جس وقت گھر کے سب بچے چھینا جھپٹی میں مشغول ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف خاموش ہو کر بیٹھ جاتے کیونکہ سوال کرنا آپ کو اتنا نا گوار تھا کہ کھانا بھی مانگ کر نہ کھاتے تھے اور اس بات کا انتظار کرتے کہ آپ کی چی خود آپ کو کھانا دیں اور جو کچھ آپ کی بچی خود آپ کو دے دیتیں خوش ہو کر کھا لیتے اور کھانے میں کبھی نقص نہیں نکالتے تھے۔اسی وجہ سے آپ کی چچی آپ سے بہت محبت کرتی تھیں۔آپ کے چچا ابو طالب کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچپن ہی سے بہت نیک تھے۔کبھی جھوٹ نہ بولتے تھے۔ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ہمیشہ سادہ رہتے۔اور دوسروں کی مدد کرتے۔ہمسایوں کا سودا بھی لا دیتے۔کبھی کسی سے جھگڑا نہ کرتے اور جو کچھ میسر آتا اس پر خدا تعالیٰ کا شکر بجا لاتے۔(ترمذی ، ہمارے رسول ص 6) شاندار الفاظ پیارے آقا کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبہ محبت اور مومنوں پر شفقت اور رحمت کو شاندار اور مؤثر الفاظ میں یوں بیان فرماتا ہے۔لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ بِاالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيم (التوبه : 128) یعنی اے مومنو! تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو تم میں سے ہے اور یہ نبی ایسا مشفق و مہربان ہے کہ تم کو کسی رنج و تکلیف میں مبتلا دیکھ ہی نہیں سکتا۔وہ اس پر سخت گراں ہے اور اسے ہر وقت اس بات کی شدید خواہش اور تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو خیر اور بھلائی پہنچتی رہے وہ تمہارے لئے ہر خیر ہے اور مومنوں سے انتہائی شفقت کرنے والا اور بار بار اُن کی طرف رحمت کے ساتھ جھکنے والا ہے۔پس جہاں آپ کے پیار اور شفقت و رحمت کی وسعت نے تمام عالمین کو اپنے احاطہ میں کیا ہوا ہے آپ نے بچوں یعنی قیمتی نونہالوں سے بھی بے پناہ محبت و شفقت کا سلوک فرمایا اور کا بھوکا آج میں اپنے اس مضمون میں پیارے آقا کی بچوں پر بے مثال شفقت و