حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 8
16 15 محبت بیان کروں گی۔نقت شاہ دو جہاں اور باغ اسلام کے ننھے پھول P یہی بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے بچوں یعنی قوم کے نوجوانوں سے انکے ماں باپ سے بڑھ کر پیار اور محبت سے پیش آتا ہے جس کی مثالیں ہمیں آپ کی زندگی میں جاری ملتی ہیں۔اگر چہ آپ کا بچپن بچوں کے لئے ، جوانی جوانوں کے لئے ، اور بڑھاپا بوڑھوں کے لئے نمونہ تھا ، تاہم آپ کا وجود مبارک معصوم اور چھوٹے بچوں کے لئے سراپا شفقت و محبت تھا۔ماں سے زیادہ اولاد کے ساتھ کون محبت کر سکتا ہے۔بچے سے ماں کی محبت مثالی ہوتی ہے۔مگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ شفقت جو مخلوق خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھی کسی نے اپنی ماں سے بھی نہ دیکھی ہو گی۔الفضل سیرت النبی منمبر 1983 ص17) درخشاں ستارے پس ان ننھے پھولوں پر جو آج کے بچے اور کل کے باپ ہیں جنہوں نے مستقبل کی قیادت سنبھالنی ہے۔ہاں ہاں! جنہوں نے اس کائنات کو اپنی خوبصورتی اور مہک سے متاثر کرنا ہے ان پر ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پوری توجہ دیتے اور ان سے محبت و شفقت سے پیش آتے تاکہ بچے ملک وقوم و ملت کے لئے درخشاں ستارے بن سکیں۔ہمارے پیارے آقا بچوں سے اس لئے پیار کرتے تھے کہ انہوں نے دین کے لئے کام کرنے ہی۔بیچے بھی مانوس ہو جاتے ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے بہت پیار کرتے نتیجہ یہ ہوتا کہ بچے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانوس ہو جاتے۔آپ ان کو گود میں اُٹھاتے۔ان کا منہ چومتے۔سینے سے لگاتے۔ان کے لئے دُعائیں کرتے اور موقع بموقع ان کو دین کی باتیں سکھاتے۔اور یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلیٰ درجہ کا حسنِ سلوک تھا کہ بچوں کو بھی آپ سے بے پناہ محبت اور لگاؤ تھا۔بچے جب آپ کو بازار یا گلی کوچوں میں دیکھتے تو خوشی سے اچھلتے کودتے آپ سے آ آ کر ملتے۔آپ انہیں باری باری گود میں اُٹھا کر پیار کرتے۔آپ کی یہ عادت تھی کہ بچوں کو ہمیشہ پہلے خود سلام کرتے بچوں کی بہت دلجوئی فرماتے ان سے پاکیزہ مزاح بھی کرتے اور ساتھ ساتھ اچھی باتیں بھی بتاتے جاتے۔(فضائل نبوی) الفضل سیرت النبی نمبر 1983 ص 17 ابو داؤد کتاب الادب) بچوں نے بھی مشورہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو از خود علم ہو جاتا کہ بچے آپ سے کیا چاہتے ہیں۔اپنے گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لاتے تو ہمارے پیارے آقا کی یہ عادت تھی کہ بچوں کو خود سلام کرتے ایک دفعہ مدینہ کے بچوں نے مشورہ کیا کہ آج ہم لوگ خود حضور کو پہلے سلام کریں گے اور چُھپ کر درخت کے پیچھے کھڑے ہو گئے مگر حضور نے دیکھ لیا اور پہلے آکر سلام کیا۔آپ کا ارشاد ہے:۔ان اولى الناس بااللهِ مَنْ بَدَاءَ با السلام یعنی وہ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے (رسول اللہ کی باتیں ص 13 حدیث (12) پیارے حضور نے فرمایا:۔