حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 6 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 6

12 11 کہا بکریاں تو گاؤں والوں نے ہمارے سپرد کی ہیں پہلے گاؤں والوں سے چھ لو پھر لے جانا۔ڈاکو بچے کی بھولی باتوں پر ہنسے اور بچے کی بات کی پرواہ کئے بغیر بکریاں لے کر جانے لگے۔تو ننھا بچہ تیزی سے آگے بڑھا اور راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔اور کہا مجھے مار ڈالو پھر بکریاں لے جاؤ جب تک میں زندہ ہوں بکریاں یہاں سے نہیں جائیں گی۔ڈاکو حیران ہو گئے کہ اتنا چھوٹا سا بچہ اور اتنا دلیر۔ان کے سردار نے تعجب سے آگے بڑھ کر بچے کو پیار کیا اور پوچھا تم کس کے لڑکے ہو۔بچے نے جواب دیا ”عبدالمطلب گا“۔سارے عرب میں کوئی شخص اس نام سے ناواقف نہ تھا۔ڈاکو بولا بیشک سردار قریش کے لڑکے کو ایسا ہی بہادر ہونا چاہئے۔میں تمہاری بہادری کی قدر کرتا ہوں اور تمہارے لئے تمہاری بکریاں چھوڑتا ہوں۔پھر ڈاکوؤں سے اس کا نام پوچھا تو آپ نے بتایا 'محمد' ڈاکوؤں نے کہا کتنا نے بچے پیارا نام ہے اور کہا تمہاری پیشانی کا نُور ظاہر کر رہا ہے کہ ایک دن سارا عرب تم پر فخر کرے گا۔اور ڈاکو سلام کر کے چلے گئے۔(روضۃ الانف ) ایک اور انوکھا واقعہ فرشتوں نے سینے میں نور بھر دیا اسی عمر میں جب آپ ایک دن باہر جنگل میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ آپ نے دیکھا دو فرشتے آئے ہیں اور انہوں نے پکڑ کر آپ کو لٹا دیا اور سینہ چاک کر کے دل کو صاف کیا اور اس میں نور بھر دیا۔یہ نظارہ کشفی تھا۔جسے بچے دیکھ کر اور بزرگ سُن کر ڈر گئے اور دائی حلیمہ نے آپ کو مکہ میں لا کر آپ کی والدہ کے سپرد کر دیا۔دائی حلیمہ اور اس کے خاندان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عمر خیال رکھا اور ہمیشہ جب بھی اُن سے ملتے بہت اچھا سلوک فرماتے۔(حجة البالغہ جلد 2، 154) آپ کی والدہ اور دادا عبدالمطلب کی وفات جب آپ چھ سال کے ہوئے تو آپ کی والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور آپ ماں کی محبت بھری گود سے محروم ہو گئے۔پھر آپ اپنے دادا کے پاس رہنے لگے، دو سال بعد وہ بھی وفات پا گئے۔(سیرت ابن ہشام جلد اول جز اوّل صفحہ 107، 116) ننھے معصوم کی دُعا قبول ہو گئی ایک دفعہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے مکہ میں شدید قحط پڑ گیا اور مکہ والے سخت پریشان ہو گئے کہ کیا کریں کہ اچانک آپ کے چچا کو کچھ خیال آیا۔اپنے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا کہ بچے !لوگ بے عد پریشان ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہارا دل معصوم اور زبان پاک ہے اور تمہاری زندگی بڑی عجیب زندگی ہے۔شہر والوں کے ساتھ جنگل میں جاؤ اور اپنے خدا سے بارش کے لئے دُعا مانگو۔بھتیجے نے کہا چا میں کیا اور میری دُعا کیا میں تو ابھی بچہ ہوں یہ کام تو بڑے بزرگوں کا ہے مگر میں آپ کے ارشاد پر تعمیل کے لئے تیار ہوں چلئے میں دُعا مانگتا ہوں کیا عجب کہ خدا مجھ کمزور کی دُعا سُن لے۔چنانچہ اہلِ مکہ کے معزز احباب کے ساتھ نھا آقا (صلی اللہ علیہ وسلم) جنگل میں گیا اور سارے مجمع کے ہمراہ کھڑے ہو کر اپنے ننھے ننھے ہاتھ دُعا کے لئے آسمان کی طرف اُٹھا دیئے۔بادلوں کے فرشتے شاید اسی گھڑی کے منتظر تھے۔دُعا مانگتے ہی اتنی تیز بارش ہوئی کہ قحط کی ساری تکلیف دور ہو گئی۔اہل مکہ کو پہلی دفعہ یہ احساس ہوا کہ ان میں ایک مقدس لڑکا موجود