حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 6 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 6

9 8 کہ الہی کدھر جاؤں کوئی جگہ امن کی نہیں ملتی۔میری نظر اس مکان کے بالا خانہ پر پڑی، وہ حضور کے دست مبارک کی تاثیر بزرگ مجھے دیکھنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹی اوپر آ جاؤ۔میں یہ غنیمت سمجھ کر کہ کچھ تو امن کا مکان ملا۔اوپر بالا خانہ پر اس بزرگ کے پاس گئی۔انہوں نے فرمایا کہ بہت اچھا ہوا کہ تم حضرت پیر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ رمضان شریف کا ذکر ہے کہ جب میرے دانتوں میں درد ہوا حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب اور ڈاکٹر عبد اللہ صاحب (نومبائع) یہاں آگئیں۔دنیا میں سوائے ہمارے اب کوئی جگہ امن کی نہیں ہے تم بھی رہو۔میں نے یہ نے بہت سی دوائیں لگائیں اور کھلائیں کچھ آرام نہ ہوا۔جب سخت درد ہوا اور میری حالت درد بات اس بزرگ کی زبانی سنی خدا کا شکر کیا پھر میری آنکھ کھل گئی۔بتلاؤ وہ کون بزرگ تھے اور یہ سے متغیر ہوئی تو میں صبح ہی اٹھ کر حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔میرے در دکو کیا بات ہے؟ میں نے کہا یہ حلیہ یہ صورت یہ لباس اور یہ ہیئت جو تم نے بیان کی ہے یہ حضرت دیکھ کر آپ علیہ السلام بیتاب سے ہو گئے اور صندوق کھول کر کونین کی شیشی نکالی ، اپنے ہاتھ میں اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی ہے اور یہ مکان بھی وہی ہے جو میں دیکھ کر آیا ہوں۔پانی ڈال کر جلدی جلدی سے گولی بنائی اور فرمایا منہ کھولو! میں نے کھولا تو حضرت نے اپنے ہاتھ کہنے لگی شاید وہی ہوں اور شاید دنیا میں پھر غدر پڑ جاوے اور بے امنی ہو جاوے اور قادیان سے کونین کی گولی میرے منہ میں ڈالدی۔فرمایا نگل جاؤ۔میں نگل گیا۔پھر پانی کا گلاس اپنے ہاتھ مبارک سے بھر کر لائے اور مجھے پلایا پھر فرمایا کونین ہر ایک بیماری کے دورہ کو روکنے والی ہے خدا شفاء دے۔پس دومنٹ کے بعد درد کو آرام ہو گیا۔پھر جو ایک دفعہ درد ہوا اور میں نے کونین کھائی میں ہی امن ملے۔چلو وہیں چلے چلیں۔“ رفاقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تذكرة المهدی صفحه 207) کچھ بھی فائدہ نہ ہوا تب میں نے جانا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے دست مبارک کی تاثیر تھی۔“ حضرت پیر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایک لمبا عرصہ رہنے اور فیض اٹھانے کا موقع دیا اور ایک عرصہ تک آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پس خوردہ کی تاثیر خدمت کی اور در حقیقت خدمت کا حق ادا کیا۔آپ ان چند رفقاء میں سے ایک ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کثرت سے صحبت نصیب ہوئی۔(تذکرة المهدی صفحه 10) آپ مزید فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھے نزلہ اور زکام کی بہت شکایت تھی چار برس یا کچھ کم و بیش میں اس مرض میں مبتلا رہا دودھ پینا، خوشبوسونگھنا میرے لیے زہر تھا۔ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام پیر صاحب کو اکثر صاحبزادہ صاحب“ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔بعد نماز عشاء ( بیت) مبارک کی چھت کی شہ نشین پر حضرت اقدس علیہ السلام تشریف رکھتے تھے حضور علیہ السلام کو آپ سے بہت محبت تھی اور کثرت سے ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے پتہ اور سب احباب جیسے چاند کے چار طرف ستارے کوئی نیچے اور دائیں اور بائیں بیٹھے تھے آپ چلتا ہے کہ حضور اقدس علیہ السلام پیر صاحب پر بہت شفقت اور مہربانی فرمایا کرتے تھے اور آپ نے دودھ پینے کے لئے طلب کیا اور ایک گھونٹ دودھ کا پی کر گلاس کو میرے ہاتھ دے دیا اور فرمایا پی لو۔میں نے عرض کیا کہ مجھ کو نزلہ اور زکام کی سخت شکایت ہے میں نہیں پی سکتا۔اگر کی ہر ضرورت کا خیال رکھا کرتے تھے۔