حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 5
7 CO 6 مسئلہ کے حل کے لئے اور بعض دفعہ صحبت سے فیضیاب ہونے کے لئے لدھیانہ تشریف لے گئے نہ کی اور اس کو مباحثہ کی دعوت دی کیونکہ آپ اس کو اپنا دشمن سمجھتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ لیکن آپ کی خواہش تھی کہ آپ قادیان دارالامان میں بیعت کریں اس لئے آپ پہلی بیعت السلام سے دشمنی کرتا تھا۔میں شامل نہ ہوئے اگر چہ آپ وہاں موجود تھے۔تاریخ احمدیت میں لکھا ہے کہ رشتہ داروں کے علاوہ بھی بعض لوگ ایسے بھی تھے جو پہلے سے ہی آپ کے مخالف تھے یعنی آپ کی پیری اور خاندانی عزت سے حاسد تھے جب ان کو حضرت پیر صاحب کی بیعت کا پتہ چلا پیر سراج الحق نعمانی - شیخ یعقوب علی صاحب تراب اور مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی تو آپ کو بدنام کرنے کا ایک سنہری موقعہ ان کے ہاتھ آ گیا۔اس دن لدھیانہ میں موجود تھے مگر پہلی بیعت میں شامل نہ ہو سکے۔پیر سراج الحق نعمانی صاحب کا منشاء قادیان کی ( بیت ) مبارک میں بیعت کرنے کا تھا جسے حضرت اقدس نے منظور فرمالیا اور 23 دسمبر 1889 ءکو بیعت لی۔“ بیعت کرنے کے بعد کی زندگی ہجرت حضرت پیر صاحب کا اپنا وطن سر ساوہ تھا جو ضلع سہارنپور میں ایک قصبہ ہے۔جب آپ نے احمدیت قبول کی تو تمام لوگ آپ کے مخالف ہو گئے۔اور آپ کو اندازہ ہو گیا کہ اب یہ جگہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 341) آپ کے رہنے کے قابل نہیں۔چنانچہ آپ نے قادیان میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔دراصل یہ بھی ایک خدائی فیصلہ تھا اور قادیان جانے سے پہلے ہی آپ پر اور آپ کی اہلیہ مومن کے درجات کی بلندی کے لئے مشکلات بھی آتی ہیں۔جب مومن کی راہ میں پر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ رویا ظاہر کر دیا تھا کہ اب قادیان ہی ہے جو آج امن کی جگہ ہے باقی ہر جگہ مشکلات اور تکلیفیں آتی ہیں اور وہ اس پر صبر وتحمل سے ثابت قدم رہتا ہے تب اس کے ایمان فساد ہی فساد ہے۔(رساله سراج الحق صفحہ 6، 7 ) کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے۔حضرت پیر محمد سراج الحق صاحب نعمانی نے بھی جب حضرت مسیح چنانچہ آپ کی اہلیہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا دکھایا۔آپ تحریر فرماتے ہیں: موعود علیہ السلام کی غلامی اختیار کی تو آپ کو کئی قسم کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور مشکلات کو ”میری بیوی کہنے لگی کہ آج رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ ایک بزرگ جن کے جھیلنا پڑا لیکن خدا کے فضل سے آپ ثابت قدم رہے۔وہ لوگ جو آپ کو پیر مانتے تھے اور آپ کا سرور لیش (یعنی سر اور داڑھی۔ناقل ) میں مہندی لگی ہوئی ہے اور بال سفید ہیں مونڈ ہوں تبرک کھانا اپنی خوش قسمتی سمجھتے تھے اب آپ کو راہ چلتے گالیاں دینے لگے اور کفر کے فتوے (کندھوں) تک لٹکتے ہیں اور درمیانہ قد اور دہرا بدن ہے، گندمی رنگ ہے۔وہ ایک مکان میں آپ کے تمام گھر والوں اور ہم وطنوں نے بھی منہ موڑ لیا سوائے آپ کی زوجہ محترمہ کے کھڑے ہیں اور دنیا میں چاروں طرف قتل عام ہور ہا ہے اور کہیں آگ لگ رہی ہے اور کسی جگہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے قبول احمدیت کی توفیق عطا فرمائی۔مولوی رشید احمد گنگوہی جو حضرت مسیح طوفان آرہا ہے اور کسی طرف تلوار میں اور نیزے چل رہے ہیں اور روئے زمین پر کہیں امن کی موعود علیہ السلام کا ایک بڑا مخالف تھا رشتہ میں آپ کا ہم زلف تھا۔لیکن آپ نے کسی رشتہ کی پرواہ جگہ نہیں۔لوگ غل مچارہے ہیں روتے ہیں اور میں بھی حیران کھڑی ہوں اور دل میں کہتی ہوں آپ پر لگنا شروع ہو گئے۔