حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 7 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 7

11 10 کسی وقت پی لیتا ہوں تو مجھے زہر ہو جاتا ہے اور نزلہ بڑھ جاتا ہے۔فرمایا: خیر پی بھی لو! کا ہے کا صرف ایک دیوار بیچ میں ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور کی نوازش اور مہربانی ہے۔۔۔یہ فرما کر زکام و کام؟ میں نے ادب سے انکار نہ کیا اور گلاس پی لیا۔پھر مجھے اس کے بعد کبھی بھی نزلہ نہیں آپ تشریف لے گئے۔دن بھر سے میرے خفیف سابا ئیں مونڈھے سے لیکر نصف صدر میں درد ہوا چاہے جتنا دودھ پیا اور جو وقت چاہا پیا اور اس سے پہلے یہ حالت رہتی تھی کہ اگر قدر قلیل بھی تھا مجھے کچھ چنداں خیال نہ ہوا۔جب دس بجے تو وہ درد زیادہ بڑھنے لگا میں نے کچھ سینک کی۔دودھ پی لیتا تھا تو پندرہ پندرہ میں ہمیں روز تک نزلہ رہتا تھا اورلکھنے پڑھنے سے بیکار ہو جا تا تھا اور درد کم نہ ہوا زیادہ ہی زیادہ بڑھتا گیا۔جب بارہ کے قریب رات گئی تو میں درد سے بے چین ہو گیا اب دودھ پی لیتا ہوں تو خدا کے فضل اور آپ کے پس خوردہ کی تاخیر سے کوئی شکایت نہیں ہوتی۔اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور میں دیوار سے کمر لگا کر بیٹھا اور در دشدت پکڑتا گیا۔اسی یہ حضرت اقدس کے پس خوردہ کی تاخیر تھی جواب تک اس کا اثر ہے۔“ حالت میں مجھ پر ایک کشفی حالت طاری ہوگئی اور کشف میں میں نے دیکھا کہ پانچ فرشتے میری ( تذكرة المهدی صفحه 11-10) چار پائی پر میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ایک فرشتہ نے کہا صاحبزادہ کے درد بہت ہے، دوسرے نے کہا ہاں درد بہت ہے، تیسرے نے کہا اس کا علاج کیا؟ چوتھے نے کہا اس کا علاج یہ ہے کہ ہم ہر تکلیف کا خیال رکھنا سب تقسیم کر لیں۔پانچویں نے کہا اچھا پھر سب نے با ہیں اوپر کی طرف کر کے انگڑائی لی اور مجھے آپ فرماتے ہیں ” میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان کے اندر ایک طرف بھی اشارہ سے کہا۔گویا تم بھی انگڑائی لو میں نے بھی اپنی باہیں اوپر کی طرف کر کے انگڑائی لی اور معہ اہل وعیال رہتا تھا اور آپ نے وہ جگہ بتلادی تھی اور اس سے اوپر کے چوبارہ میں آپ رہتے جس طرح انہوں نے اون (مد کے ساتھ آواز نکالی ) میں نے بھی وہی آواز نکالی۔بس اس تھے۔دو ماہ بعد سردی کا موسم شروع ہو گیا۔آپ عصر کے وقت اچانک میری جائے نشست میں میں کوئی آدھا منٹ بھی نہیں لگا اور کشف جاتا رہا اور وہ فرشتے غائب اور در دموقوف ہو گیا لیکن رونق افروز ہوئے اور پہلے ہی السلام علیکم فرمایا۔میں نے جواب وعلیکم السلام عرض کیا۔فرمایا حصہ رسد درد کی کچھ کسک باقی رہ گئی اور آرام ہو گیا۔میری بیوی جو میرے قریب دوسری چار پائی خیریت ہے اور کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ اگر کوئی تکلیف ہو تو کہہ دینا۔اگر نہ کہو گے تو تم تکلیف پر لیٹی پڑی تھی اور سوتی تھی میری آواز سن کر چونکی اور جاگ اٹھی ، کہنے لگی درد کا کیا حال ہے اور یہ اٹھاؤ گے۔میں نے عرض کیا کہ جناب کی توجہ اور غریب نوازی سے کوئی بھی تکلیف نہیں ہے اور لمبی آواز کیسے نکالی؟ میں نے یہ سارا ماجرا سنایا پھر میں آرام سے سو گیا ، بعد نماز صبح حضرت اقدس حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی مہمان آتا تو دریافت فرماتے کہ کسی بات یا پھر میرے مکان میں تشریف لائے۔دور سے ”السلام علیکم فرمایا اور حسب عادت میری صورت کسی شے کی تکلیف نہ اٹھانا اور بے تکلف کہہ دینا۔زبانی موقع نہ ملے تو رقعہ تحریر کر لینا اور اگر تم دیکھ کر ہنسنے لگے اور فرمایا کہ کیا حال ہے؟ میں نے کہا رات کو میرے درد تھا اور اس قسم کا واقعہ نہیں کہو گے تو تم کو آپ تکلیف اٹھانی پڑے گی ، ہم تو بڑے بے تکلف ہیں۔پھر خاکسار سے گزرا۔فرمایا یہ کشف صحیح ہے۔ہم بھی اس وقت دیوار سے کمر لگائے بیٹھے تھے اور ہمیں یہ الہام فرمایا آج سے ہم بھی تمہاری ہمسائیگی میں آگئے ہیں۔چونکہ اب سردی کا موسم شروع ہو گیا ہے۔ہوا۔وہ الہام مجھے یعنی خاکسار کو اس وقت یاد نہیں رہا لیکن وہ الہام الہامات میں درج ہے۔پھر اوپر کے مکان سے اس نیچے کے مکان میں آگئے ہیں اور ہماری تمہاری چار پائی برابر برابر رہے گی میں نے حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب سے اس درد اور کشف اور صحت کا حال اور حضرت