حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 14
25 24 پڑے گا اور فتنہ انداز اور ہوا و ہوس کے بندے جدا ہو جائیں گے۔پھر خدا تعالیٰ اس تفرقہ کو دراصل حضور یہاں ان اکابر رفقاء کرام کے بارے میں بیان فرمارہے ہیں جنہوں نے مٹادے گا۔باقی جو کٹنے کے لائق اور راستی سے تعلق نہیں رکھتے اور فتنہ پرداز ہیں وہ کٹ جائیں حضور کی بیعت کی۔اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کی صداقت اور حضرت پیر گے اور دنیا میں ایک حشر برپا ہوگا وہ اول الحشر ہوگا۔اور تمام بادشاہ آپس میں ایک دوسرے صاحب کی اطاعت وفرمانبرداری اور خلوص کا اندازہ ہوتا ہے۔پر چڑھائی کریں گے اور ایسا کشت و خون ہوگا کہ زمین خون سے بھر جائے گی اور ہر ایک بادشاہ کی مجالس مشاورت میں شرکت رعایا بھی آپس میں خوفناک لڑائی کرے گی۔ایک عالمگیر تباہی آوے گی اور اس تمام واقعات کا حضرت پیر صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے دور میں مجالس مشاورت میں بھی مرکز ملک شام ہوگا۔صاحبزادہ صاحب ( خاکسار راقم کو فرمایا ) اس وقت میرالڑ کا موعود ہوگا۔نمائندہ خاص کے طور پر شرکت فرماتے رہے۔چنانچہ 1922ء اور 1923ء کی مجلس مشاورت کی رپورٹس میں مرکزی نمائندگان کی فہرست میں آپ کا نام ملتا ہے۔حضرت مصلح موعود کی شفقت خدا نے اس کے ساتھ ان حالات کو مقدر کر رکھا ہے۔ان واقعات کے بعد ہمارے سلسلہ کو ترقی ہوگی۔اور سلاطین ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے۔تم اس موعود کو پہچان لینا۔یہ ایک بہت بڑا نشان پسر موعود کی شناخت کا ہے۔مولوی صاحب موصوف مرحوم نے باہر نکل کر حضرت اقدس علیہ السلام کی اس بات کو دہرایا اور مجھے فرمایا پیر صاحب تم کو مبارک ہو۔میں نے کہا کیسی مبارک باد؟ فرمایا تم نے حضرت مسیح جنازہ بھی آپ نے خود پڑھائی۔موعود علیہ السلام کا فرمان نہیں سنا کہ خاص تم سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم اس ولد موعود کو پہچان لینا حضرت مصلح موعود کو بھی حضرت پیر صاحب سے بڑا پیار تھا۔حضرت پیر صاحب کی نماز حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات کے بعد بھی حضرت مصلح موعود نے حضرت پیر مجھے نہیں فرمایا۔وہ ہنگامہ محشر تم دیکھو گے اور موعود کو بھی۔سوالحمد للہ وہ ہنگامہ محشر اور پسر موعود میں صاحب کے خاندان کی ضرورتوں کا خیال رکھا اور حضرت پیر صاحب کی اہلیہ کے لئے وظیفہ بھی 66 نے اپنی آنکھ سے دیکھا اور مولود مسعود کو پہچانا۔“ (تذکرۃ المہدی صفحه 274) مقرر کیا ہوا تھا۔بعض دفعہ حضور اپنے پاس سے بھی مددفرما دیا کرتے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے نہ صرف مولود مسعود کو پہچانا بلکہ سچے دل سے اس کی پیروی اور اتباع کی توفیق بھی پائی۔چنانچہ حضرت پیر صاحب کے بارے میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: آخری ایام حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بھی خدمت دین میں مصروف رہے۔آپ سارا دن گھر میں بیٹھ کر علمی کام میں مصروف رہتے تھے اور گھر سے اسی طرح پیر سراج الحق صاحب نعمانی ہیں جو نہ صرف یہ کہ شروع کی بیعت کرنے والے باہر نہ نکلتے تھے۔اس کی ایک وجہ تو کام میں مصروفیت تھی اور دوسری وجہ یہ کہ آپ انتہائی کمزور ہو چکے تھے یہاں تک کہ آپ لوگوں سے ہاتھ بھی نہ ملاتے تھے کیونکہ لوگ زور سے ہاتھ ملاتے تھے ہیں بلکہ انہوں نے وقتا فوقتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لمبی صحبت بھی حاصل کی ہے۔“ آئینہ صداقت انوار العلوم جلد 6 صفحہ 167) اور آپ کو درد ہوتا تھا۔