حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 13
23 22 تعلق تھا۔حضرت پیر صاحب بھی حضرت خلیفہ اسی الاول کا بہت ادب و احترام کرتے تھے۔ہے اور تھوڑے سے حصہ میں حضرت میر ناصر نواب صاحب۔۔۔۔۔بھی میرے شریک اور ہم سبق حضرت صاحبزادہ صاحب کو حضرت خلیفہ مسیح الاول سے قرآن کریم کی تفسیر پڑھنے اور رہے۔در حقیقت قرآن شریف اور بخاری شریف کے سمجھنے کا حق بعد حضرت اقدس علیہ السلام اسباق حاصل کرنے کا شرف بھی حاصل ہے جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت پیر نورالدین ہی کا ہے جس کا نام ہی نور دین ہو وہ نور قرآن سے حصہ نہ لے تو اور کون لے ! حضرت صاحب کو خصوصیت سے توجہ دلائی تھی۔خلیفہ مسیح کو قرآن شریف کا یہاں تک عشق و محبت ہے کہ کوئی وقت آپ کا قرآن شریف سے حضرت پیر صاحب اپنی کتاب تذکرۃ المہدی“ میں حضرت خلیفہ مسیح الاول کا مقام خالی نہیں ہے اور اندر زنانہ مکان میں جابجا قرآن شریف رکھے ہوئے ہیں تا کہ دیکھنے میں دیرینہ لگے اور سستی و کسل برپا نہ ہو۔جہاں ہوں وہیں قرآن شریف دیکھ لیں۔ایک دفعہ آپ فرماتے اور اپنا ان سے تعلق بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: و مجھے خلیفہ امسیح کی بارگاہ میں کئی قسم کا شرف حاصل ہے۔ایک تو یہ کہ آپ ہمارے تھے کہ خدا تعالیٰ جو مجھے بہشت میں اور حشر میں نعمتیں دے تو میں سب سے پہلے قرآن شریف مرشدوں کی اولاد سے ہیں اور دوسرا اس سے زیادہ شرف یہ کہ آپ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی مانگوں اور طلب کروں تاکہ حشر کے میدان میں بھی اور بہشت میں بھی قرآن شریف پڑھوں، معہو دامام زمان عالی جناب مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام الی یوم القیامہ کے خلیفہ اور جانشین ہیں۔اور ایک یہ شرف کہ حضرت اقدس علیہ السلام مجھے بار بار فرمایا کرتے تھے کہ حضرت پڑھاؤں،سناؤں۔“ مولوی نورالدین صاحب کی تفسیر قرآن آسمانی تفسیر ہے۔صاحبزادہ صاحب ان سے قرآن پڑھا حضرت مصلح موعود کے ساتھ ( تذكرة المهدی صفحہ 174) حضرت مصلح موعو مرزا بشیر الدین محموداحمد خلیفہ مسیح الثانی سے حضرت صاحبزادہ صاحب موعود محموداحمدخلیفہ کرو اور ان کے درس میں بہت بیٹھا کرو اور سنا کرو۔اگر تم نے دو تین سیپارے بھی حضرت مولوی صاحب سے سنے یا پڑھے تو تم کو قرآن شریف سمجھنے کا مادہ اور تفسیر کرنے کا ملکہ ہو جاوے گا۔یہ بچپن سے ہی بہت محبت کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واضح اشاروں سے آپ کو بات مجھ سے حضرت اقدس علیہ السلام نے شاید پچاس مرتبہ کہی ہوگی اور درحقیقت میں اسرار بھی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہی وہ موعود بچہ ہے جس کی پیشگوئی کی گئی تھی۔قرآنی اور تفسیر کلام رحمانی سے نا آشنا اور نا واقف تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت پیر صاحب کو اس بات کی نصیحت کی تھی اور ایک پس میں حضرت اقدس علیہ السلام کے فرمانے سے درس میں بیٹھنے لگا اور قرآن شریف سننے رنگ میں بشارت دی تھی کہ جب میرا بیٹا مصلح موعود ہوگا تو اس کی پیروی کرنا۔اس واقعہ کوحضرت لگا اور پھر ایک لطف ایسا آنے لگا کہ جس کا بیان میری خیز تحریر سے باہر ہے اور آپ کی ہی برکت پیر صاحب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سے مجھے قرآن شریف کی تفہیم ہوتی گئی (یعنی سمجھ آتی گئی) اور خود حضرت اقدس علیہ السلام بھی مجھے پڑھایا کرتے تھے اور مطالب قرآن شریف سمجھایا کرتے تھے۔اور ایک شرف مجھے آپ سے یہ ہے کہ میں نے بخاری شریف کا کچھ حصہ آپ سے پڑھا ، " ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ) مولوی عبدالکریم صاحب سے بہت تفصیلی باتیں کیں اور بہت سے واقعات جو آپ کے بعد ہونے والے تھے وہ بیان کر رہے تھے جو میں بھی پہنچ گیا اور سلسلہ کلام جاری رہا۔فرمایا: خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارے سلسلہ میں بھی سخت تفرقہ