حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 15 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 15

تاریخ وفات 26 حاصل کرنے کی توفیق بھی ملی۔27 حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے اپنی زندگی کے اتنی سال پورے کئے اور روایات از صاحبزادی صاحبہ پیر صاحب) آپ کی صاحبزادی صاحبہ نے ابتدائی تعلیم قادیان سے ہی حاصل کی۔آٹھ جماعتوں کے 3 جنوری 1935ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔آپ کی نماز جنازہ حضرت مصلح موعود بعد ربوہ آگئیں اور میٹرک نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ سے کیا۔آپکی شادی حضرت صوفی سید تصور نے پڑھائی۔اخبار الحکم میں آپ کی وفات کی خبر درج ذیل الفاظ میں شائع ہوئی۔یہ خبر نہایت رنج اور افسوس سے پڑھی جائے گی کہ حضرت پیر سراج الحق صاحب جمالی حسین صاحب کے صاحبزادہ سید احمد شاہ صاحب سے ہوئی جو اس وقت مربی کے طور پر خدمات سلسلہ سرانجام دے رہے تھے۔1929ء میں آپ مع اپنے خاندان راولپنڈی منتقل ہو گئیں۔یہاں آپ نے لیڈی ہیلتھ نعمانی سرساوی جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خدام میں سے تھے اور جنہوں نے وزٹر(lady health visitor) کا کورس کیا اور ساتھ ہی پریکٹس شروع کر دی۔آپ آج کل سلسلہ کے قبول کرنے کے ساتھ سلسلہ پیری مریدی پر لات مار دی تھی ، 3 جنوری کو ظہر کی نماز کے وقت انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 4 جنوری کو بعد نماز جمعہ حضرت اقدس نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور آپ مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔“ پسماندگان راولپنڈی میں مقیم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا اور آپ کی تمام اولا دکو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے علم و ہنر کی دولت سے بہرہ ور فر مایا۔یہ تمام برکات دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بابرکت صحبت اور ان دعاؤں کا نتیجہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت پیر صاحب کے بیٹے کی وفات پر کیس کہ اللہ تعالیٰ ا حکم 14 جنوری 1935 ، صفحہ 11) بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور ایک کی جگہ دس بیٹے عطا فرمائے۔خاکسار کے خیال میں دس سے حضور اقدس علیہ السلام کا کثرت اولاد کی طرف اشارہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت پیر عمدہ فطرت آپ کے پسماندگان میں آپ کی اہلیہ کے علاوہ ایک کم سن بچی بھی تھیں جن کا نام محمد ہ ناہید صاحب کے حق میں قبول فرمایا۔ہے اور آپ خاکسار (مصنف) کی دادی صاحبہ ہیں اور بفضل اللہ تعالیٰ حیات ہیں۔اس کے علاوہ آپ کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں کم سنی کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔آپ کی وفات کے بعد جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے حضرت مصلح موعود اور حضرت اماں جان حضرت پیر صاحب نہایت خوش مزاج انسان تھے۔آپ اعلیٰ اور نفیس طبیعت کے مالک نے آپ کے خاندان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا۔حضرت پیر صاحب کی صاحبزادی صاحبہ بیان تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کی طبیعت کو بہت پسند فرماتے تھے اور تعریف فرمایا کرتے کرتی ہیں کہ وہ ہر وقت حضرت اماں جان کے پاس رہتیں اور آپ کی صحبت سے فیضیاب تھے۔اپنے ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاحبزادہ صاحب کو فرماتے ہیں: ہوتیں۔حضرت اماں جان کیسا تھ بیٹھ کر کھانا کھاتیں اور آپ کے پس خوردہ سے کئی دفعہ برکت ( مکتوبات احمد جلد 5 مکتوب 5) آپ کی فطرت بہت عمدہ ہے۔۔۔