حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 8 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 8

13 12 اقدس علیہ السلام کا تشریف لانا وغیرہ بیان کیا۔تب حکیم الامت نے فرمایا کہ بے شک صحبت فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَاسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّ أتُوبُ إِلَیهِ۔ان دنوں مجھے زکام کی وجہ سے کھانسی ہورہی تھی۔بارہ بجے ہونگے ، بار بار کھانسی صالحین میں یہی برکت ہے اور یہی مطلب ہے۔پان لانا ( تذکرۃ المہدی صفحه 14-12) اٹھتی تھی۔فرمایا آج صاحبزادہ صاحب آپ کو کھانسی ہو رہی ہے کیا سبب ہے؟ میں نے عرض کیا کہ شام سے میں حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوں پان نہیں کھایا۔مجھے حضور اجازت دیں تو میں گھر سے پان کھا بھی آؤں اور دو چار گلوریاں ساتھ لے آؤں۔فرمایا جاؤ نہیں ، لکھے جاؤ ایک روز کا ذکر ہے کہ قصیدہ اعجاز احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھ رہے تھے اور اس کی کاپی کی ضرورت ہے پر لیس میں چھاپ رہے ہیں دیر ہو جائے گی۔میں پان لاتا ہوں۔یہ فرما کر بالا خانہ سے نیچے کے مکان میں گئے۔مجھے آپ کے بولنے کی آواز آتی تھی۔فرماتے تھے جلد کا پی غلام محمد کا تب امرتسری لکھ رہا تھا۔مجھے بھی بلوالیا اور فرمایا کہ تم کاپی کھوتا کہ جلدی یہ قصیدہ بتلا ؤ محمود کی والدہ کہاں ہیں؟ اتنے میں حضرت محمود صاحب کی والدہ جناب (حضرت اماں چھپ جائے اور فرمایا کہ کاپی ہمارے پاس بیٹھ کر لکھو۔میں نے عرض کیا بہت اچھا۔آپ ایسا جان ) آگئیں۔حضور نے فرمایا صاحبزادہ صاحب کا پی لکھ رہے ہیں وہ گھر جائیں گے تو دیر ہو جلدی قصیدہ تصنیف کرتے تھے اور مجھے دیتے جاتے تھے کہ میں ابھی مضمون ختم نہیں کر سکتا تھا جو جائے گی آٹھ دس پان معہ مصالحہ لگا کر دو۔تو ( حضرت اماں جان ) سلمہا اللہ تعالیٰ نے دس پان آپ اور مضمون دے دیتے تھے۔رات کے گیارہ بج گئے آپ کے لئے کھانا آیا، فرمایا شام سے تو ثابت لگا کر دیے اور ایک تھالی میں رکھ کر لائے۔میں نے پان تو منہ میں ڈال لیا الا بچی بھی کھالی تم یہیں لکھ رہے ہو کھانا نہیں کھایا ہو گا آؤ ہم تم ساتھ کھائیں۔ہمیں تو ( دین حق ) کی خوبیاں اور قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے کے دلائل دینے اور ثبوت نبوت محمد ﷺے میں یہاں تک اور چھالیہ بھی پھر فرمایا کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو وہ بھی کہو۔میں نے عرض کیا کہ روشنی کم ہے۔پھر حضور علیہ السلام نیچے مکان میں تشریف لے گئے اور دس بارہ موم بتی لیکر آئے اور فرمایا استیلا ءاور غلبہ ہے کہ ہمیں نہ کھانا اچھا لگتا ہے، نہ پانی، نہ نیند۔جب بھوک اور نیند کا سخت غلبہ ہوتا ہے تو ہم کھاتے ہیں یا سوتے ہیں۔پھر میں نے اور حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک دستر خوان تم لکھے جاؤ ہم روشن کر دیں گے۔سو حضرت اقدس نے اپنے دست مبارک سے چا رہتی یکدم روشن کر دیں اور باقی میرے پاس رکھ دیں اور آپ علیہ السلام قصیدہ لکھنے میں مشغول ہو گئے۔پر کھانا کھایا۔جب کھانا کھا چکے تو فرمایا یہ دن بڑے ثواب اور جہاد کے ہیں اور اب تو لوگ مخالفت کرتے ہیں لیکن ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ آج کے دن کو یاد کریں گے اور افسوس کریں آرام کا خیال رکھنا گے اور پچھتائیں گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور ہمیشہ یہی قاعدہ رہا ہے کہ اللہ والوں سے حضرت صاحبزادہ صاحب تحریر فرماتے ہیں ” میرے لئے جو ایک چار پائی حضرت اقدس معاصرت ( یعنی ہم زمانہ ہونے) کی وجہ سے لوگ مخالفت کیا ہی کرتے ہیں اور کرتے رہتے علیہ السلام نے دے رکھی تھی جب مہمان آتے تو میری چار پائی پر بعض صاحب لیٹ جاتے اور ہیں۔آپ کی بھی مخالفت اس وقت بہت کرتے ہیں۔لوگ مردہ پرست ہیں۔آپ کی وفات میں مصلے زمین پر بچھا کر لیٹ جاتا اور جو میں بستر چارپائی پر بچھا لیتا تو بعض مہمان اسی چار پائی کے بعد آپ کی قبر مبارک پر پھول اور مٹھائیاں اور غلاف چڑھائیں گے اور نذرنیا لائیں گے۔بستر شدہ پر لیٹ جاتے۔میرے دل میں ذرہ بھر بھی رنج یا ملال نہ ہوتا اور میں سمجھتا کہ یہ مہمان