حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 9 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 9

15 14 ہیں اور ہم یہاں کے رہنے والے ہیں اور بعض صاحب میرا بستر چارپائی کے نیچے زمین پر پھینک اسٹیشن پر تشریف لے گئے۔سوار ہوتے ہوئے حضرت اقدس علیہ السلام نے خلاف عادت مجھے دیتے اور آپ اپنا بستر بچھا کر لیٹ جاتے۔ایک دفعہ ایسا ہی ہوا، حضرت اقدس علیہ السلام کو ایک سینہ سے لگایا اور فرمایا کہ اب تم جاؤ پھر جلدی قادیان آنا۔ہمارا جی نہیں چاہتا کہ تم کو چھوڑ کر ہم عورت نے خبر دیدی کہ حضرت! پیر صاحب زمین میں لیٹے پڑے ہیں۔آپ نے فرمایا چار پائی چلے جائیں۔اللہ کے حوالے۔فی امان اللہ “ ( تذكرة المهدى صفحه 260-259) کہاں گئی؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں۔آپ فورا باہر تشریف لائے اور گول کمرہ کے سامنے مجھے امامت کروانا بلایا کہ زمین میں کیوں لیٹ رہے ہو؟ برسات کا موسم ہے اور سانپ بچھو کا خطرہ ہے۔میں نے سب حال عرض کیا کہ ایسا ہوتا ہے اور میں کسی کو کچھ نہیں کہتا۔آخر ان لوگوں کی تواضع اور خاطر و مدارت ہمارے ذمہ ہے یہ سن کر آپ علیہ السلام اندر گئے اور ایک چار پائی میرے لئے بھجوا ایک اور بات جس سے حضور اقدس علیہ السلام کی پیر صاحب سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے یہ ہے کہ حضور اقدس علیہ السلام بعض دفعہ پیر صاحب سے امامت بھی کروایا کرتے تھے اور پیر صاحب کو یہ سعادت حاصل ہے کہ آپ نے متعدد بار حضور اقدس علیہ السلام کی موجودگی میں امامت دی۔ایک دور وز تو وہ چار پائی میرے پاس رہی آخر پھر ایسا ہی معاملہ ہونے لگا جیسا کہ میں نے کروائی اور حضور اقدس علیہ السلام نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔چنانچہ آپ بیان فرماتے ہیں: آپ علیہ السلام کے ہاں لوگوں کی آمد ورفت بہت کم تھی۔یہاں تک بعض دو دو چار بیان کیا۔پھر کسی نے آپ سے کہہ دیا پھر آپ نے اور چار پائی بھجوا دی۔پھر ایک روز کے بعد وہی معاملہ پیش آیا پھر آپ کو کسی نے اطلاع دی اور صبح کی نماز کے بعد مجھ سے فرمایا کہ چار یا دس دس کوس کے آدمی بھی آپ سے کم واقفیت رکھتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس صاحبزادہ صاحب بات تو یہی ہے کہ تم کرتے ہو اور ہمارے احباب کو ایسا ہی کرنا چاہئے لیکن تم وقت دو چار نمازی آپ علیہ السلام کے ساتھ ہوتے تھے۔اکثر حضرت اقدس علیہ السلام نماز ایک کام کرو ہم ایک زنجیر لگا دیتے ہیں، چار پائی میں زنجیر باندھ کر چھت میں لٹکا دیا کرو۔پڑھایا کرتے تھے اور کبھی میں ایک ہی مقتدی ہوتا تھا اور آپ علیہ السلام امام اور کبھی میں امام مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم یہ سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ ایسے بھی استاد آتے ہیں جو 66 اسکو بھی اتار لیں گے پھر آپ بھی بننے لگے۔“ (احکم قادیان 21،28 مئی 1924 ، صفحہ 5) حضرت پیر صاحب کو گلے لگانا اور آپ علیہ السلام مقتدی۔تصانیف میں ذکر 66 (الحکم 30 اپریل 1902 ءصفحہ 9) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ آپ بہت شاذ و نادر ہی کسی کو گلے لگایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے از راہ شفقت اپنی تصانیف میں بھی بعض جگہ حضرت پیر کرتے تھے وگرنہ اکثر مصافحہ ہی فرماتے تھے۔حضرت پیر صاحب کی یہ ایک بہت بڑی صاحب کا ذکر فرمایا۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف سعادت ہے کہ جب دہلی سے حضور اقدس علیہ السلام واپس جانے لگے تو آپ نے پیر صاحب کو ازالہ اوہام کے صفحہ 434 پر پیر صاحب کا نہایت محبت بھرے الفاظ میں ذکر فرمایا۔اس کے گلے لگایا اور محبت بھرے کلمات فرمائے۔چنانچہ حضرت پیر صاحب تحریر فرماتے ہیں: علاوہ تحفہ قیصریہ میں حضور اقدس علیہ السلام نے دو نشانوں کے گواہ کے طور پر صفحہ 352 اور 354 پر مباحثہ کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے چلنے کی تیاری کی اور بگھیاں منگوائیں اور پیر صاحب کا ذکر فرمایا، ضمیمہ انجام آتھم میں اپنے مریدوں کی فہرست میں حضور اقدس علیہ السلام