سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 3 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 3

2 حضرت عمرؓ زمانے میں بہت مہارت رکھتے تھے۔اسی طرح حضرت عمرؓ نے بھی اس موروثی فن کو سیکھا۔فن پہلوانی اور کشتی میں کمال مہارت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ عکاظ کے دنگل میں جہاں سال کے سال میلہ لگتا تھا اور اہل عرب کے تمام معروف ترین اور چوٹی کے اہل فن اپنے فنون کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔اس میلے میں حضرت عمرؓ بھی اپنی پہلوانی اور کشتی کے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔اسی طرح آپ کو لکھنے پڑھنے کا بھی شغف تھا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم کی بعثت کے وقت قریش میں صرف ۱۷ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان میں ایک حضرت عمر بن الخطاب تھے۔(فتوح البلدان بلاذری صفحه ۴۷۱) عربوں میں اونٹ چرانا قومی روایات میں سے تھا اور اس کو معیوب نہیں گردانا جاتا تھا۔حضرت عمر نے بھی اپنے والد کے حکم سے جوانی میں اونٹ چرائے۔بعد میں اپنی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ جب حضرت عمرؓ کا اس مقام (فنجان جہاں آپ بچپن میں اونٹ چراتے تھے ) سے گزر ہوا تو آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ اللہ اکبر ایک وہ زمانہ تھا کہ میں نمرہ کا کرتہ پہنے ہوئے اونٹ چرایا کرتا تھا اور تھک کر بیٹھ جاتا تو باپ کے ہاتھ سے مار کھاتا۔آج یہ دن ہے کہ خدا کے سوا میرے اوپر کوئی حاکم نہیں“۔سلسلہ تجارت (طبقات ابن سعد) عربوں میں تجارت کا پیشہ سب سے زیادہ معزز تھا۔حضرت عمرؓ نے اسی معزز پیشے کو اختیار کیا اور تجارت کی غرض سے دور دراز ملکوں کا سفر اختیار کیا۔گو کہ ان سفروں کے حالات حضرت عمر 3 پوری طرح تاریخ میں محفوظ نہیں ہیں لیکن آپ کی تجارتی دلچسپیوں کا ذکر تاریخوں میں ملتا ہے۔عکاظ کے معرکوں اور تجارتی تجربوں نے آپ کو خود دار، تجربہ کار، بلند حوصلہ اور معاملہ فہم بنا دیا۔انہی اوصاف کی بناء پر آپ کو قریش نے سفارت کے منصب پر مامور کر دیا۔قبائل میں جب کوئی پر خطر معاملہ پیش آتا تو آپ ہی کو سفیر مقرر کیا جاتا۔قبول اسلام آپ ۲۷ برس کے تھے جب حضرت رسول کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے نبوت کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو خدا کے نام پر اسلام کی دعوت دینی شروع کر دی۔آغاز میں حضرت عمرؓ اسلام اور رسول کریم کے بارہ میں نہایت سخت رویہ رکھتے تھے۔حالانکہ آپ کے خاندان کے بعض افراد اسلام میں داخل ہو چکے تھے جن میں ایک معزز فرد نعیم بن عبداللہ تھے۔اسی طرح آپ کی بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بلکہ اسی خاندان کی ایک کنیز لبینہ بھی اسلام قبول کر چکی تھی۔حضرت عمر تک جب یہ بات پہنچی تو آگ بگولہ ہوئے اور قبیلے میں جو لوگ اسلام لا چکے تھے ان کے دشمن بن گئے۔کنیز لبینہ جو مسلمان ہو چکی تھی اس کو بے تحاشہ مارتے اور مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے ذرا دم لے لوں تو پھر ماروں گا۔لبینہ کے سوا اور جس جس پر زور چلتا زدوکوب سے دریغ نہ کرتے۔لیکن جو بھی اسلام قبول کر لیتا، مارتو کھالیتا مگر اسلام سے انکار نہ کرتا۔تکالیف کے اس انتہائی دور میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو بڑی خوشیاں عطا فرمائیں۔یعنی حضور کے حقیقی چچا حضرت حمزہ اور دوسرے حضرت عمرؓ جیسے ذی مقدرت افراد نے اسلام قبول کر لیا۔آپ کے قبول اسلام کا قصہ نہایت دلچسپ ہے۔حضرت عمرؓ کی طبیعت میں سختی کا مادہ تو تھا ہی مگر اسلام کی عداوت نے اسے اور بھی