سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 2
حضرت عمر حضرت عمر 1 پیش لفظ پیارے بچو! حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت ﷺ کے دوسرے خلیفہ راشد تھے۔آپ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی دعا سے قبول اسلام کا شرف پایا۔آپ نہایت متقی ، نیک، غریب پرور، اسلام کی بہت غیرت رکھنے والے، بارعب، اور نہایت اعلیٰ درجہ کے منتظم تھے۔آپ کے دورِ خلافت میں سلطنتِ اسلامیہ معلوم دنیا کے اکثر حصہ پر پھیل چکی تھی۔اور پوری سلطنت میں کیا مسلمان اور کیا غیر مسلم سب حضرت عمرؓ کے ممنون احسان اور اعلیٰ انتظام کے قائل تھے۔آپ نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک قابل تقلید نمونہ چھوڑ گئے۔آپ کا دور خلافت تاریخ اسلام کے سنہری ابواب میں سے ایک ہے۔زیر نظر کتاب پہلی مرتبہ مکرم سیدمحمود احمد صاحب کے دور صدارت میں شائع ہوئی اور اس کتاب کو مکرم منصور احمد نورالدین صاحب نے نہایت محنت سے تیار کیا۔اب خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی کے موقع پر بعض ضروری تبدیلیوں کے ساتھ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے۔اس کتاب کی تیاری میں خاکسار تمام معاونین خصوصا مکرم مدثر احمد مزمل صاحب اور مکرم عطاء العلیم ثمر صاحب کے تعاون کا تہ دل سے شکر گزار ہے۔فجزاهم الله تعالى الاحسن الجزاء حضرت عمر آپ کا نام عمر تھا۔آپ کا سلسلۂ نسب کچھ یوں ہے۔عمر بن خطاب بن نفیل۔اہل عرب عموماً عدنان یا قحطان کی اولاد ہیں۔عدنان کی نسل سے حضرت عمر پیدا ہوئے۔اس طرح حضرت عمرؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں جا کر حضرت رسول کریم کے ساتھ مل جاتا ہے۔خانہ کعبہ کی تولیت کا کام جو کہ آپ کے خاندان یعنی قریش سے متعلق تھا اس میں آپ کے آباء صیغہ سفارش کے افسر تھے یعنی قریش کو جب کسی قبیلے کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آتا تو اس کے لئے صیغہ کے نگران بن کر جایا کرتے۔آپ کی والدہ جن کا نام حنتمہ تھا ہشام بن المغیرہ کی بیٹی تھیں۔مغیرہ اس رتبہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلہ سے لڑنے کے لئے جاتے تو فوج کا اہتمام یہ کیا کرتے تھے گویا حضرت عمرؓ نجیب الطرفین تھے۔ولادت حضرت عمرؓ ہجرت نبوی سے ۴۰ برس قبل پیدا ہوئے۔اس طرح آپ حضرت رسول کریم سے عمر میں ۱۳ سال چھوٹے تھے۔بچپن اور جوانی (طبقات ابن سعد) اس زمانے میں شرفائے عرب جن چیزوں کی تربیت حاصل کرتے ان میں نسب دانی، سپہ گری، شہسواری، پہلوانی اور خطابت شامل ہیں۔حضرت عمرؓ نے ان تمام کاموں میں کمال حاصل کیا۔فن نسب دانی میں تو آپ کے والد اور دادا نفیل دونوں اپنے