سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 20
36 36 حضرت عمر ہوگا۔اسلام پہلی بدعتوں اور لغو باتوں کو ختم کرنے کے لئے آیا ہے۔حضرت عمرؓ نے حضرت عمر و بن العاص کو جو خط بھجوایا اس کے ساتھ ایک رقعہ بھی تھا فر مایا میرا یہ رقعہ دریائے نیل میں پھینک دینا۔اس کی عبارت یہ تھی: ”اللہ کے بندے عمر امیر المؤمنین کی جانب سے نیل مصر کے نام۔دیکھ اگر تو اپنی منشاء سے طغیانی لاتا تھا تو بے شک نہ لا لیکن اگر خدا تجھے میں طغیانی لاتا تھا تو میں خدائے واحد و قہار سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھ میں طغیانی لے آئے۔یہ رقعہ ان کے مخصوص دن سے ایک روز قبل نیل میں پھینک دیا گیا۔اگلی صبح اہل مصر نے دیکھا نیل میں طغیانی آچکی تھی اور قحط سالی دور ہونے کے سامان ہو گئے۔دیگر فتوحات حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں جو معروف علاقے فتح کئے گئے۔ان میں جلولاء عراق کا علاقہ ) نخل ( دمشق کا علاقہ ) جمع ( شام کا علاقہ ) ، یرموک، قیساریہ ( فلسطین کا علاقہ ) ، آذربائیجان، طبرستان، آرمینیا، کرمان، سیستان، مکران، خراسان ، مصر اور اسکندریہ معروف ترین علاقے ہیں۔ان فتوحات کی وجہ سے ان تمام علاقوں میں اسلام پھیل گیا۔حضرت عمرؓ کی شہادت مدینہ میں فیروز نام کا ایک پارسی غلام تھا۔جس کی کنیت ابولولو تھی۔اس نے ایک دن حضرت عمرؓ سے آکر شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بہت بھاری محصول مقرر کیا ہے۔آپ کم کرادیجئے۔حضرت عمر نے تعداد پوچھی اس نے کہا کہ روزانہ دو درہم، حضرت عمر 37 حضرت عمرؓ نے پوچھا تمہارا پیشہ کیا ہے، بولا کہ نجاری، نقاشی ، آہن گری۔فرمایا کہ ان صنعتوں کے مقابلے میں یہ رقم زیادہ نہیں ہے۔فیروز دل میں سخت ناراض ہو کر چلا گیا۔دوسرے دن حضرت عمرؓ صبح کی نماز کے لئے نکلے تو فیروز خنجر لے کر مسجد میں آیا۔حضرت عمر کے حکم سے کچھ لوگ اس کام پر مقرر تھے کہ جب جماعت کھڑی ہو تو صفیں درست کریں۔جب صفیں درست ہو چکتیں تو حضرت عمرؓ تشریف لاتے اور امامت کراتے تھے۔اس دن بھی حسب معمول صفیں درست ہو چکیں تو حضرت عمر امامت کے لئے بڑھے اور جوں ہی نماز شروع کی۔فیروز نے جو انتظار میں تھا دفعہ چھ وار کئے۔حضرت عمرؓ نے فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ کھڑا کر دیا اور خود زخم کی وجہ سے گر پڑے۔فیروز نے اور لوگوں کو بھی زخمی کیا، لیکن بالآ خر پکڑ لیا گیا اور ساتھ ہی اس نے خود کشی کر لی۔حضرت عمرؓ کو لوگ اٹھا کر گھر لائے۔سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ” میرا قاتل کون تھا، لوگوں نے کہا۔فیروز۔فرمایا کہ الحمداللہ میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا جو اسلام کا دعویٰ رکھتا تھا۔لوگوں کو خیال تھا کہ زخم زیادہ کاری نہیں ہے اور غالباً شفاء ہو جائے گی۔چنانچہ طبیب بلایا گیا۔اس نے دودھ پلایا تو وہ زخم سے باہر نکل آیا۔اُس وقت لوگوں کو یقین ہو گیا کہ وہ زخم سے جان بر نہیں ہو سکتے۔حضرت عمرؓ نے اپنے فرزند حضرت عبداللہ کو بلا کر کہا کہ ام المومنین حضرت عائشہ کے پاس جاؤ اور کہو کہ عمر آپ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔حضرت عبداللہ حضرت عائشہ کے پاس آئے۔وہ رورہی تھیں۔سلام کہا اور حضرت عمرؓ کا پیغام پہنچایا۔حضرت عائشہ نے کہا کہ اس جگہ کو میں اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔لیکن آج میں حضرت عمر کو اپنے اوپر ترجیح دوں گی۔عبداللہ واپس آئے لوگوں