سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 19 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 19

34 حضرت عمر مسلمانوں نے جابیہ میں جا کر قیام کیا۔جو آب و ہوا کی خوبی میں مشہور تھا۔اس کے بعد حضرت عمر تو مدینہ واپس چلے گئے لیکن لشکر وہیں ٹھہرا۔جابیہ پہنچ کر حضرت ابوعبیدہ جو لشکر کے سپہ سالار تھے اس وبا سے بیمار ہو گئے اور جلد وفات پاگئے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مسلمان اس وبا کا لقمہ بنے جن میں بعض بڑے درجہ کے صحابہ بھی شامل تھے۔اب فوج کے سپہ سالار حضرت عمرو بن العاص مقرر ہوئے۔انہوں نے لشکر کو پہاڑوں میں ادھر ادھر پھیل جانے کو حکم دیا۔اس تدبیر سے وبا کا خطرہ جا تا رہا۔حضرت عمرؓ کو ان حالات سے اطلاع ہوتی رہتی تھی اور مناسب احکام بھیجتے رہتے تھے۔اس قیامت خیز و با کی وجہ سے فتوحات اسلام کا سیلاب دفعہ رک گیا۔حضرت عمرؓ نے ان حالات سے مطلع ہو کر شام کا قصد کیا۔حضرت علی کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا اور خود ایلہ کوروانہ ہوئے۔ایلہ پہنچ کر دو ایک روز قیام کیا۔کرنہ جو زیب بدن تھا کجاوے کی رگڑ کھا کر پیچھے سے پھٹ گیا تھا ایلہ کے پادری کے حوالہ کیا اس نے خود اپنے ہاتھ سے پیوند لگائے اور اس کے ساتھ ایک نیا کر یہ بھی تیار کر کے پیش کیا لیکن حضرت عمرؓ نے اپنا کرتہ پہن لیا اور فرمایا اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ایلہ سے دمشق آئے اور شام کے اکثر اضلاع میں دودو چار چار دن قیام کر کے مناسب انتظام کئے۔فوج کی تنخواہیں تقسیم کیں۔جو لوگ وبا میں ہلاک ہو گئے تھے ان کے دور و نزدیک کے وارثوں کو بلا کر ان کی میراث دلائی۔سرحدی مقامات پرفوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔بیت المقدس کی فتح حضرت عمرؓ نے فلسطین کی مہم پر حضرت عمرو بن العاص کو مقررفرمایا۔آپ نے ۱۲ھ میں بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔کچھ دنوں کے محاصرے کے بعد عیسائی مصالحت پر راضی حضرت عمر 35 ہو گئے اور اطمینان کے لئے یہ خواہش ظاہر کی کہ امیر المؤمنین خود یہاں آ کر اپنے ہاتھ سے معاہدہ لکھیں۔حضرت عمرؓ کا سفر بیت المقدس جب اس معاہدے کی خبر حضرت عمرؓ کو دی گئی تو آپ نے اکابر صحابہ سے مشورہ کر کے حضرت علی کو قائمقام مقرر فرمایا اور رجب ۱۶ھ کو مدینہ سے بیت المقدس کے لئے روانہ ہوئے۔آپ کا یہ سفر نہایت سادگی سے ہوا۔جاہیہ کے مقام پر افسروں نے استقبال کیا اور دیر تک قیام کر کے بیت المقدس کا معاہدہ صلح ترتیب دیا۔پھر وہاں سے روانہ ہو کر بیت المقدس میں تشریف لے گئے۔وہاں سیر کی۔نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے گرجا میں نماز پڑھنے کی اجازت دی لیکن حضرت عمرؓ نے اس خیال سے کہ آئندہ نسلیں اس کو حجت قرار دے کر مسیحی معبدوں میں دست اندازی نہ کریں باہر نکل کر نماز پڑھی۔بیت المقدس سے واپسی کے وقت حضرت عمر نے تمام ملک کا دورہ کیا۔سرحدوں کا معائنہ کر کے ملک کی حفاظت کا انتظام کیا اور بخیر و خوبی مدینہ واپس تشریف لائے۔مصر اور دریائے نیل مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص نے آپ کی خدمت میں تحریر کیا کہ یہاں یہ رواج ہے کہ جس سال دریائے نیل میں پانی کم آئے اس سال یہ لوگ کسی نوجوان لڑکی کو زیورات وغیرہ پہنا کر ، بنا سنوار کر نیل کی لہروں کی نذر کرتے ہیں اور اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے دریا میں پانی نہیں ہے جس وجہ سے مصر کی زمین زرخیزی سے محروم ہے اور لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔حضرت عمر نے جواباً لکھا کہ اسلام میں یہ ہرگز نہ