حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

by Other Authors

Page 17 of 21

حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 17

31 30 کچھ روپیہ نفقد اور کچھ زمین اس کام کے لئے دی۔اس طرح آپ بھی ان برکات میں حصہ دار بنے جو اللہ تعالیٰ نے الفضل کے ذریعہ جاری فرمائیں۔نیز حضرت نواب صاحب نے اپنے مکان کی نچلی منزل دی۔صدر انجمن احمدیہ میں خدمات مقبرہ کے انتظام کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی صدارت میں حضرت مسیح موعود نے ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔جنوری 1906ء میں صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔اس کے ممبران میں حضرت نواب صاحب بھی تھے۔آپ کو 1900ء سے 1918 ء تک مختلف عہدوں پر سلسلہ کی خدمات کا موقع ملا۔آپ کا سلوک رفقاء کار سے بہت اچھا رہا۔آپ بہت سادگی سے اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔میز کرسی کے استعمال کی آپ کو عادت نہ تھی۔تمام دن فرش پر بیٹھ کر ہی سب کام کرتے تھے اور پورے غور و فکر سے دفتری امور کو سرانجام یتے۔آپ صالح ، نیک، پابند شریعت زاہد اور عابد انسان تھے۔آپ اس امر کو نا پسند فرماتے تھے کہ ان کا ماتحت کارکن کھڑا رہے اور پھر کاغذات پیش کرے اسلئے ہمیشہ بیٹھنے کا ارشاد فرماتے۔آپ کا طریق تھا کہ صبح دس بجے گھوڑا گاڑی پر دفتر پہنچتے اور خوب جم کر پونے چھ گھنٹے کام کرتے۔چار بجے گاڑی آجاتی اور آپ چار بجے واپس اپنی کوٹھی دار السلام چلے جاتے۔قیام صدر انجمن احمد یہ سے قبل 6 جنوری سے 15 دسمبر 1902 تک پہلے آپ میگزین ریویو کے اسسٹنٹ فنانشل سیکرٹری اور پھر فنانشل سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے۔1909ء میں آپ صدر انجمن احمدیہ کے امین مقرر ہوئے۔1911ء میں آپ صدر انجمن کی طرف سے ناظر مقرر ہوئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 19 اپریل 1914ء کو 16 ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی کا تقررفرمایا جس کا کام یہ تھا کہ تعلیم م کالج قادیان کس طرح جلد سے جلد اور کم خرچ پر قائم کیا جاسکتا ہے۔نواب صاحب بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔1915ء اور 1916ء کو دوسال تک حضرت نواب صاحب صدر انجمن احمدیہ کے جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر فائز رہے۔الاسلام اخلاق فاضلہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ نہ آپ کسی پر اعتراض کرتے ، نہ ہی کسی کا شکوہ کرتے اور نہ اسے پسند کرتے۔نہ غیبت کرتے اور نہ سنتے۔آپ کے سامنے کسی کے خلاف بات کرنے کی کسی کو مجال کم ہی ہوتی تھی۔ادب اور حفظ مراتب کے بے حد پابند تھے اور اکثر اپنی اولاد اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔حضرت نواب صاحب ایک شیر مومن تھے۔جس بات کو درست سمجھتے تھے وہی کرتے تھے۔