حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 16
29 28 اقارب سے بھی حضرت نواب صاحب بہت حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آپ نے ہر رنگ میں جماعت احمدیہ کی بڑھ چڑھ کر خدمات سرانجام دیں۔آپ کا قدم ہر لمحہ شاہراہ ترقی پر گامزن رہا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی اولا د کو اپنے خاص فضل سے، بے نظیر رنگ میں نوازا۔حجتہ اللہ کا خطاب یکم مارچ 1903ء کو صبح کی سیر میں حضرت اقدس نے نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج رات ایک کشف میں آپ کی تصویر ہمارے سامنے آئی اور اتنا لفظ الہام ہوا ”حجۃ اللہ “ اس کے متعلق یوں تفہیم ہوئی کہ کیونکہ آپ اپنی برادری اور قوم میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام حجتہ اللہ رکھا یعنی آپ ان پر حجت ہو نگے۔چونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام حجتہ اللہ رکھا ہے، آپ کو چاہیے کہ آپ ان لوگوں پر تحریر سے ، تقریر سے ہر طرح سے حجت پوری کردیں۔( تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 383) اس الہام کے بعد آپ نے حتی المقدور دعوت الی اللہ کی اور کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے خاندان کے بعض اور افراد بھی احمدی ہوئے۔مالی قربانی آپ نے متعدد مواقع پر مالی قربانی کی مختلف تحریکات میں حصہ لیا، امانت فرمائی اور عمارات کی درستگی اور وسعت کے لئے گاہے بگاہے رقم مہیا کی جن میں مدرسہ احمد یہ منارہ مسیح اور مرکزی لا ہر بری وغیرہ شامل ہے۔آپ نے قادیان میں بہت سے رفاہ عامہ کے کام سرانجام دیئے۔سڑکوں کو ہموار بنوایا اور پختہ نالیاں بنوائیں، نیز مریضوں کی امداد کے لئے ایک معقول رقم پیش کی۔ان کے علاوہ سلسلہ کے پہلے اخبار الحکم کی اعانت ، دار الضعفاء کیلئے زمین اور الفضل کے اجراء میں اعانت بھی آپ کی مالی قربانیوں کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔الفضل کے اجراء کیلئے اعانت الفضل کے اجراء کے لئے حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ نے بہترین ایثار کا نمونہ دکھایا، انہوں نے دوزیورالفضل کے اجراء کے لئے دیئے اور ان کی پونے پانچ صد روپے کی قیمت الفضل کیلئے ابتدائی سرمایہ بنی اور پھر حضرت اماں جان نے اخبار کیلئے زمین دی جو تقریبا ایک ہزار روپے میں فروخت ہوئی۔تیسرے شخص جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے تحریک کی وہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب تھے۔آپ نے