حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 18
33 32 بزرگان کے لئے احترام آپ اپنے بڑے بھائیوں، بزرگان ، رفقاء کرام اور خاندان حضرت مسیح موعود کیلئے حد درجہ احترام کا جذبہ رکھتے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت نواب صاحب کے اخلاص کا ایک واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں حضرت نواب صاحب نے شہر میں اس جگہ اپنا مکان بنانے کا ارادہ کیا جہاں بعد میں حکیم مولوی قطب الدین صاحب ،سید احمد نور صاحب کابلی ، بابو محمد وزیر خان صاحب اور قاری غلام یین صاحب نے مکان بنوا لئے۔جب حضرت نواب صاحب کے مکان کے لئے آپ کے کارکنان نے سرحد میں قائم کیں تو ایک کو نہ ایک بزرگ کی زمین میں چلا گیا اور اس بزرگ کی ناراضگی کا موجب ہوا۔حضرت نواب صاحب کے دل میں بزرگوں کا اس قدر احترام تھا کہ آپ نے وہاں مکان بنانے کا ارادہ ہی ترک کر دیا کہ اس میں ابتداء میں ہی تنازعہ ہوا ہے یہ جگہ میرے لئے مبارک نہیں ہو سکتی۔اور فرمایا ہماری قادیان میں آمد کی غرض وغایت مکان کی تعمیر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس احتیاط کے نتیجہ میں جو برکات آپ کو عطا کیں وہ بہت زیادہ ہیں۔صبر و استقامت حضرت نواب صاحب صبر واستقامت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔جن حالات میں آپ نے احمدیت قبول کی اور شجاعت سے اس کا اظہار کیا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ورنہ شاذ و نادر ہی لوگ ایسے صبر واستقامت اور شجاعت کا اظہار کرتے ہیں۔عبادات میں شغف آپ حد درجہ کے عفت پسند اور زمانہ کے مفاسد کے باعث پردہ کے حد درجہ پابندی کے حامی تھے۔نمازوں کی ادائیگی ، روزہ ، تلاوت قرآن کریم مشاغل دینیہ وغیرہ میں ہمہ وقت مصروف رہتے۔آپ معمولاً شب بیدار اور تہجد گزار تھے حتی کہ سفر میں بھی التزام رکھتے۔آپ نمازیں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے۔آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ اس باره بیان فرماتی ہیں۔رات کو تہجد میں دعائیں کرتے تو یوں معلوم ہوتا کہ خدا تعالیٰ کا نور کمرہ میں نازل ہورہا ہے۔اور اس طرح دعائیں کرتے اور اس قدر گریہ وزاری کرتے کہ نیند اڑ جاتی۔تلاوت قرآن مجید کی کثرت کے باعث قریبا تمام قرآنی دعائیں یاد