حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 18 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 18

33 32 اولاد کا بھی خونی تعلق حضور سے قائم ہو۔اسی خواہش کے مدنظر انہوں نے اپنے سارے اس کے مقابل پر اپنی ہستی کو ادنی ہستی تصور کرتے تھے۔بچوں اور بچیوں کے رشتے خاندان حضرت مسیح موعود میں کئے۔اپنے بچوں کے لئے رشتہ کے انتخاب میں حضرت مسیح موعود کے تعلق کے مقابلہ میں کسی دنیوی دولت یا و جاہت کو ذرہ برا برا ہمیت نہ دی۔الفضل 21 ستمبر 1961ء صفحہ 4) حضرت نواب صاحب عجز وانکسار کے پتلے تھے۔باوجود نواب ہونے کے اس لقب کو کبھی کسی فخر یا خوشی کا موجب نہیں سمجھا۔آپ کبھی گرمیوں میں پہاڑ وغیرہ پر جاتے۔رستہ میں جنگلوں آپ اپنی اولاد کو بکثرت دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے اور اپنی دعاؤں کی قبولیت اور اللہ میں ڈاک بنگلہ وغیرہ میں ٹھہرتے تو اکثر حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے پاس آکر کہتے بیگم! ایک تو یہ نوابی پیچھا نہیں چھوڑتی۔یہاں جنگل میں ان کو کس نے بتا دیا کہ ہم نواب ہیں۔سارے لوگ کہہ رہے ہیں۔نواب صاحب آئے ہیں۔“ کبھی حضرت بیگم صاحبہ سے فرماتے کہ بیگم ! میں بعض وقت سوچتا ہوں کہ نفس کا بھی کوئی حق ہوتا ہے۔مگر دوسری باتوں پر خرچ کر کے جو لذت پاتا ہوں وہ نفس پر خرچ کرنے سے کہاں ملتی ہے۔“ تعالیٰ کے بیشمار انعامات کا ذکر کرتے اور ان کو بھی دعا کے لئے کہتے رہتے۔اپنے بچوں کو نصیحت فرماتے کہ اپنی امی کا بہت خیال رکھا کرو اور کہتے کہ ویسے تو ماں کے قدموں میں جنت ہوتی ہی ہے لیکن ان کے قدموں میں دو جنتیں ہیں۔ایک تو ماں ہونے کے لحاظ سے، دوسرے موعود اولا د ہونے کی وجہ سے۔عجز و انکسار اپنی اولاد کو وصیت کرتے ہوئے حضرت نواب صاحب تحریر کرتے ہیں: ہر مصیبت کے وقت مولیٰ کریم کو قادر مطلق خدا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور جھک کر عجز و انکسار سے استقامت طلب کریں۔میں نے اسی طریق سے زندہ خدا کو پایا اور اپنی مشکلات کو کافور ہوتا دیکھا۔“ (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 96) حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب رقم فرماتے ہیں کہ آپ کی وفات ایک بزرگ ہستی انجام بخیر کی خواہش حضرت خان عبدالمجید خان صاحب کپور تھلوی فرماتے ہیں: آپ سادہ طبیعت، کم گو، راستباز اور متحیر ، رشتہ داروں اور ( رفقاء) جماعت احمدیہ سے نہایت محبت کرنے والے بزرگ تھے۔خاکسار پر خاص طور پر مہربان تھے اور بہت محبت فرماتے تھے۔سلسلہ احمدیہ کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔بفضلہ تعالی مذہبی تھے۔باقاعدہ چندہ ادا کرنے میں خوشی محسوس کرتے۔سلسلہ احمدیہ کی وفات ہے جس کے ذرہ ذرہ میں احمدیت سمائی ہوئی تھی۔آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے پر کے شیدائی ، اپنے ملا زمان پر ہمیشہ مہربانی فرماتے ، گالی دینے سے نفرت کرتے۔ان ہونے والے قسم قسم کے احسانوں اور فضلوں پر ہر آن شکر گزار رہنے والے بزرگ تھے۔باوجود یکہ آپ نواب زادہ تھے لیکن حضرت مسیح موعود کی دامادی کو اس قد ر نعمت عظمیٰ جانتے تھے کہ سے قصور ہو جاتا تو معاف فرماتے۔جب بھی آپ سے ذکر کرتا کہ آپ کے لئے نمازوں میں دعا کیا کرتا ہوں تو اس کے جواب میں ہمیشہ یہ فرماتے کہ خانصاحب