حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 19 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 19

35 34 میرے لئے خصوصیت سے یہ دعا کیا کریں کہ میرا انجام بخیر ہو۔“ مهمان نوازی الفضل 28 نومبر 1961 ء صفحہ 5) حضرت نواب عبداللہ خان صاحب کی ایک صفت اکرام ضیف تھی۔مہمان یا مسافر خواہ اندر سے ایک نیا عمدہ گرم جرابوں کا جوڑا لائے اور فرمانے لگے کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے آپ کے پاؤں میں ڈالنی ہیں۔میں نے ہر چند انکار کیا لیکن آپ کی بات ماننی پڑی اور آپ نے خود وہ جوڑا اس عاجز کو پہنایا۔“ (( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 127) ایک دفعہ آپ کو بعد از عشاء ایک ہم جماعت کے آنے کی اطلاع ملی۔مصروفیت کے امیر ہو یا غریب اس کے کھانے کا انتظام نہایت پر تکلف کرتے تھے بلکہ یہ کوشش کرتے کہ اس کو باعث آپ نے فرمایا کہ صبح ناشتہ پر ملاقات ہوگی اور قیام وطعام کا بندو بست کروا دیا۔ناشتہ پر اپنے ساتھ کھانا کھلا ئیں۔وقت یا بے وقت مہمان نوازی کے لئے ہمیشہ مستعد رہتے تھے اور گھر مہمان کے متعلق دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کسی کام سے شہر چلے گئے ہیں۔آپ نے فرمایا والوں کو تاکید کرتے تھے کہ مہمان کی خاطر مدارات میں کوئی فرق نہ آئے۔مہمان نوازی اس خوشی مجھے اطلاع دی ہوتی۔یہ تو اچھی بات نہیں اسے جانے کیوں دیا۔جلدی جاؤ وہ بس سٹاپ پر ہوں اور مسرت سے کرتے تھے کہ آنے والے کا دل باغ باغ ہو جاتا تھا۔حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ امسیح الرابع " نے آپ کی وفات پر تحریر فرمایا: غرباء کے ہمدرد، کثرت سے صدقہ خیرات کرنے والے، مہمان نوازی میں طرہ امتیاز کے حامل، اس قسم کے فدائی اور خلیق میزبان اس زمانہ میں تو شاذ و نادر ہی ہوں گے۔مہمان کے آرام کا خیال و ہم کی طرح سوار ہو جاتا۔میری طبیعت پر آپ کی مہمان نوازی کا ایسا اثر ہے کہ اگر غیر معمولی مہمان نوازی کا جذبہ رکھنے والے صرف چند بزرگوں کی فہرست لکھنے کو مجھے کہا جائے تو آپ کا نام میں اس فہرست میں ضرور گے۔چنانچہ خادم سائیکل پر جا کر انہیں لے آیا۔آپ بہت تپاک سے ملے۔ساتھ ناشتہ کرایا۔اور بار بار پوچھا کہ آپ ناشتہ کے بغیر کیوں چلے گئے تھے اور پھر گیٹ پر الوداع کہنے گئے۔ان کے جانے کے بعد فرمایا ” میری یادداشت میں اب تک نہیں آئے۔انہوں نے ہم مکتب ہونے کا جو کہا ٹھیک ہوگا۔اسی لحاظ سے میں نے خاطر مدارات کی ہے۔“ دیانت داری و تقوی ایک دفعہ ایک ہندو سیٹھ نے آپ کے اوصاف حمیدہ سے متاثر ہو کر آپ کو اپنے کاروبار میں شریک کر لیا۔جب محکمہ انکم ٹیکس کو پیش کرنے کے لئے گوشوارے سیٹھ صاحب نے تیار کرنے تھے ،سیٹھ صاحب نے عام کاروباری فرموں کی طرح کچھ اس قسم کا حساب تیار کروایا جو حقیقت حضرت مرزا عبدالحق صاحب حضرت میاں صاحب کے جذبۂ مہمان نوازی کے متعلق سے مختلف تھا اور انہوں نے کوشش کی کہ بطور حصہ دار اس سٹیٹمنٹ پر حضرت نواب محمد عبد اللہ خان تحریر کروں گا۔“ کہتے ہیں: (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 154) ”آپ مہمان نوازی کا اعلیٰ جذبہ رکھتے تھے۔مہمان نوازی کا پورا حق ادا فر ماتے۔ایک شام کو میں گورداسپور سے آیا تو سردی زیادہ تھی۔مجھے گرم جرابوں کی ضرورت نہ ہوتی تھی اور یہ بات آپ کے لئے باعث تعجب تھی۔آپ اسی وقت صاحب بھی دستخط کر دیں۔مگر انہوں نے سختی سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ انھوں نے اپنی تمام عمر ایک پیسہ بھی اپنے حق کے علاوہ اور ناجائز حاصل نہیں کیا اور وہ اپنے آپ کو اس قسم کے ناجائز کاموں کے اہل نہیں پاتے۔باوجود اس حقیقت کے کہ اس کاروبار میں کافی منافع حاصل کیا تھا اور آئندہ بھی بہت بڑے منافع کی توقعات تھیں مگر اس واقعہ کے بعد حضرت نواب محمد عبداللہ خان