حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 17
31 30 بچوں کے لئے یہی خواہش رہی کہ وہ اپنی والدہ صاحبہ کو خوش رکھیں۔شفقت اولاد الفضل 27 اکتوبر 1961 ، صفحہ 5) آپ اپنے بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے اور آپ نے اپنے بچوں کو ناز و نعم سے پالا لیکن دینی امور کی پابندی آپ نہایت سختی سے کرواتے تھے۔آپ یہ خیال رکھتے تھے کہ آپ کے بچے نمازوں کے پابند ہوں اور اس سلسلہ میں خود بھی ان کے ساتھ ( بیت الذکر ) میں تشریف لے جاتے اور آپ نے اس امر کی بھی کبھی پرواہ نہ کی کہ بچہ سردی میں بیمار ہو جائے گا۔یہ بھی شفقت کا ایک رنگ ہے کہ اولاد میں یہ احساس پیدا کر دیا جائے کہ کون سا امران کے لئے مفید اور باعث فلاح ہے۔لحاف منگوایا کہ اگر کوئی فالتو ہو تو بھیج دیں۔ہمارے لحاف روئی بھر کر آجائیں گے تو بھجوا دیں گے۔امی جان کے پاس بھی بستر نا کافی تھے۔انہوں نے دو کمبل بھجوا دیئے۔دو مہینے کے بعد اچانک رات کو کسی مہمان کی آمد سے ضرورت ہونے پر امی جان نے اس خیال سے کہ لحاف تیار ہو چکے ہوں گے۔کمبل منگوا لئے۔صبح کو ابا جان نے امی جان سے کہا کہ میں تو رات نہیں سو سکا۔لڑکی کو کہیں ضرورت نہ ہو۔جب شام کو میری بہن آئی تو ابا جان نے فرمایا ، مجھے رات سخت تکلیف رہی تمہیں کمبلوں کی ضرورت ہوگی اور تم نے ہمارے منگوانے پر بھجوا دیے۔اس نے غیرت کی وجہ سے بتایا نہیں اور یہی کہا کہ نہیں ہمیں تو اب ضرورت نہیں تھی۔مگر ابا جان نہ مانے۔انہوں نے فرمایا کہ نہیں ضرورت تب بھی تم ساتھ لے جاؤ۔آخر مجھے اتنی تکلیف کیوں ہوئی۔اور واقعہ یہ ہے کہ اس رات وہ لوگ جو بھی کوئی چادر پلنگ پوش اور کھیں تھے۔وہ لپیٹ کر لیٹے اور ساری رات سردی کی وجہ سے نہیں سو سکے کئی سال کے بعد جب حالات ٹھیک ہو گئے۔تو اس نے یہ واقعہ بتایا۔امی اور ابا جان کو بہت رنج ہوا۔ابا جان لڑکی کو بیماری کے بعد آپ زیادہ چل نہیں سکتے تھے تو اکثر اپنی پہیہ دار کرسی پر ہی جا کر دروازے کھٹکھٹاتے اور اپنے صاحبزادوں کو نماز کے لئے بھیجتے۔اور لڑکیوں کو بھی نماز اور دعا کے لئے تاکید کرتے۔آپ کی صاحبزادی محترمہ آمنہ طیبہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ شملہ میں قیام کی بات ہے۔جبکہ میں غالباً گیارہ بارہ سال کی ہوں گی۔سردی بہت تھی۔میں تیم چھپ کر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ساری عمر یہ دکھ میرے دل میں رہے گا۔تم لوگ ماں باپ کر رہی تھی کہ ابا جان نے دیکھ لیا اور مجھے بلا کر کہا کہ دیکھو اگر کوئی دیکھ لیتا تو کیا کہتا کہ حضرت مسیح موعود کی نواسی تیم کر کے نماز پڑھ رہی ہے۔آپ کو اپنی اولاد کا اتنا خیال ہوتا کہ اگر کوئی چھپی ہوئی پریشانی دل کے کسی گوشہ میں ہوتی تو سے تکلف کرتے ہو۔اگر ضرورت تھی تو نہ بھیجتیں۔غرض ابا جان کسی بچہ کی تکلیف نہیں 66 برداشت کر سکتے تھے۔“ آپ کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ ان کی اولا د بندار اور سلسلہ کی خادم ہو۔آپ اسے فوراً بھانپ لیتے اور حضرت بیگم صاحبہ سے کہتے تھے بیگم! فلاں لڑکی اداس لگتی ہے۔پتہ کے بچوں میں بھی سلسلہ کی خدمت کا جذ بہ نمایاں تھا۔چنانچہ ایک دفعہ موسم گرما میں صاحبزادہ کرو۔آپ اپنے بچوں کی تکلیف سے بے کل ہو جاتے تھے۔صاحبزادی محترمہ طیبہ آمنہ بیگم عباس احمد خاں صاحب علاقہ سری گوبند پور میں دھوپ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گاؤں گاؤں شوق ( دعوت الی اللہ ) میں پھرتے رہے اور کبھی اگر کھانا نہ ملا تو صرف چنے چبا کر صاحبہ ایک واقعہ بیان کرتی ہیں کہ دو تقسیم ملک کے بعد حالات سب کے خراب تھے۔بستر بھی نا کافی تھے۔ایک گزارا کرتے رہے۔ایک رضائی میں دو دو تین تین مل کر سوتے تھے۔میری ایک بہن نے امی جان سے جس طرح ان کا اپنا جسمانی رشتہ حضرت مسیح موعود سے ہے اسی طرح ان کی ساری