حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 14 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 14

25 24 وفات حضرت نواب صاحب کی طبیعت 17 اور 18 ستمبر 1961 کی درمیانی رات کو بہت زیادہ سیرت حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب خراب ہوگئی تھی۔18 ستمبر بروز دوشنبہ ساڑھے آٹھ بجے صبح آپ نے لاہور میں بعمر 66 سال حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کی امتیازی خصوصیت وہ عشق و وفا تھی جو آپ کو اللہ داعی اجل کو لبیک کہا۔آپ نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں آپ کی عمر 66 سال بتائی تعالی ، رسول کریم ﷺ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مسیح موعود کیجاندان اور پھر گئی تھی۔19 ستمبر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ خاص میں عمل میں آئی۔آپ کی وفات پر جماعت کے لئے حضرت مصلح موعود نے ارشاد فرمایا: نواب عبد اللہ خان صاحب حضرت مسیح موعود کے داماد تھے ان کا حق ہے کہ جماعت ان کی بلندی درجات کے لئے خاص طور پر دعائیں کرے۔“ احباب جماعت سے علی حسب مراتب تھی۔ذوق نماز و دعا حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب شروع سے ہی نماز کے عاشق تھے۔مدرسہ کی زندگی سے ہی نمازوں میں پیش پیش تھے۔آپ کے دوست ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے بیان کرتے ہیں کہ آپ پنجوقتہ نماز با جماعت کے نہایت شدت کے ساتھ پابند تھے۔میں نے اپنی الفضل 28 ستمبر 1961 ء صفحہ 1) زندگی کے پچاس سال ان کے ساتھ گزارے۔میں ایمانداری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آپ کی طرح تمول اور تنعم میں پرورش پایا ہوا نماز کا ایسا پابند انسان ساری عمر نہیں دیکھا۔وہ جہاں کہیں ہوتے تھے ، یہاں تک کہ جب سیر یا بحالی صحت کے لئے پہاڑ پر بھی جایا کرتے تھے تو ان کی کوٹھی کا ایک کمرہ ہمیشہ نماز با جماعت کے لئے مخصوص ہوتا تھا۔نہایت با قاعدگی سے پانچ وقت ( نداء) ہو کر نماز با جماعت ہوتی تھی۔انھوں نے زندگی کے آخری سال لا ہور میں گزارے اور شاید سارے لاہور میں صرف ان کی کوٹھی ہی تھی جہاں پانچ وقت نماز باجماعت کے علاوہ ماڈل ٹاؤن کے احباب نماز جمعہ بھی ادا کرتے تھے اور وہاں حدیث ، کتب حضرت مسیح موعود کا درس بھی ہوتا تھا۔جن حالات میں آپ نے پرورش پائی ان کو دیکھتے ہوئے ان کا ایسا پا بند صوم وصلوۃ ہونا ان کے باخدا انسان ہونے کی ایک زندہ دلیل ہے۔الفضل 30 ستمبر 1961 ءصفحہ 5)