حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 13 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 13

23 22 گیا۔لیکن اس سال پھر بیماری کے بعض عوارض عود کر آئے ہیں۔دل کی کمزوری کی وجہ سے دل و جگر بڑھ گیا ہے۔معدہ کی حالت درست نہیں رہی ہے۔نفخ ہو جاتا ہے جس سے رات کو نیند خراب ہو جاتی ہے۔ڈیڑھ ماہ سے ایک قلبی بیماری جس کو Atrial Fibrillation کہتے ہیں پیدا ہو گئی ہے۔جس کی وجہ سے نبض خراب رہتی ہے۔میں ڈاکٹر محمد یوسف صاحب ایم۔ڈی کے زیر علاج ہوں۔ان کا فرمانا ہے کہ اوائل بیماری میں یہ تکلیف پیدا ہوئی تھی لیکن پھر جاتی رہی تھی اور اب پھر قلبی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔اس کا علاج انہوں نے دعا بتایا ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے پاس علاج کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ سے رحمت کے ہی امیدوار ہیں۔اس کے علاوہ ان کو علم ہے کہ میری پچھلی بیماری میں مجھے بزرگان سلسلہ اور احباب کرام کی دعاؤں سے ہی شفا ہوئی تھی۔ورنہ ظاہری اسباب میرے بچنے کے کوئی نہ تھے۔اس لئے بھی علاج کے ساتھ انہوں نے دعاؤں پر زور دیا ہے۔بہر حال ڈیڑھ ماہ سے صاحب فراش ہوں۔حالت بدستور ایک جیسی چلی جاتی ہے۔کمزوری بڑھ گئی ہے۔طبیعت کی بشاشت جاتی رہی ہے۔اب مجھ سے بعض دوستوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں اپنا حال اخبار الفضل میں دوں تا کہ حالت کا علم ہونے پروہ دوست جو مجھ سے محبت کا تعلق رکھتے ہیں دعا کرسکیں اور اللہ تعالیٰ پہلے کی طرح اپنا رحم و کرم فرمادے اور صحت دے۔چار پانچ سال کا عرصہ ہوا ہے جبکہ میں کافی بیمار تھا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ تمہاری عمر 66 سال کی ہوگی۔کچھ فاصلہ پر حضرت والد صاحب نواب محمد علی صاحب مرحوم کھڑے ہیں۔وہ مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا کہتا ہے۔میں نے عرض کی کہ کہتا ہے کہ میری عمر 66 سال کی ہوگی۔اس پر آپ فرماتے ہیں۔ہاں ہاں 66 سال کی تو ہو ہی جائے گی۔لہجہ اس قسم کا ہے جس سے مترشح ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ 66 سال سے کچھ زائد بھی ہو جائے۔بہر حال اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب ہے۔میاں فضل محمد صاحب ہرسیاں والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ( رفقاء) میں سے تھے۔انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کی عمر 45 سال کی ہو گی۔وہ روتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے پاس پہنچے کہ حضور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور میں نے یہ خواب دیکھا ہے۔حضور نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ”میاں فضل محمد! اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ 45 کی بجائے تمہاری عمر اللہ تعالیٰ نوے سال کر دے۔چنانچہ انہوں نے نوے سال کی عمر پائی۔مومن کی دعا تقدیر میں بدل دیتی ہے۔اس لئے مایوس ہونے والی کوئی بات نہیں لیکن جوں جوں 66 سال کے قریب میری عمر پہنچ رہی ہے بیماری کا زور بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہ امر قابل تشویش ہے۔اس وقت میری عمر 65 سال 7 ماہ ہے۔اس لئے اپنے خاص محبت رکھنے والے دوستوں اور افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دعا کریں جتنی عمر اللہ تعالیٰ دے وہ فعال زندگی ہو۔نافع ، مفید زندگی ہو۔میں بے بس ہوں۔بے کس ہو کر دوسروں کے ہاتھوں میں نہ پڑ جاؤں۔میری بیوی حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے بے مثال نمونہ میری خدمت کا میری چھلی بیماری میں پیش کیا تھا۔اس خدمت اور محنت سے ان کے اعصاب پر بہت برا اثر پڑا ہے۔اللہ تعالیٰ اب ان کو لیبی تیمار داری سے بچائے اور مجھے ایسی صحت اور عمر دے کہ ان پر میں کسی قسم کا بار نہ بنوں۔میرا خاتمہ بالخیر ہو۔اولا دا ایسی چھوڑ کر جاؤں جو احمدیت کی سچی خادم اور اللہ تعالیٰ کی رضا لئے ہوئے ہو۔بعض ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بھی مجھ پر ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی کما حقہ ادائیگی کی توفیق دے۔پس بزرگان سلسلہ اور ( رفقاء) کرام اور درویشان قادیان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی خاص دعاؤں میں مجھے یا درکھیں۔فجزاهم الله احسن الجزاء الفضل 10 اگست 1961 ء صفحہ 2)