حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 15
27 26 حضرت نواب صاحب کے بھائی حضرت میاں عبدالرحیم خاں صاحب کا بیان ہے کہ و میں نے ان کو کبھی روتے نہیں دیکھا البتہ نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور ضر ور روتے تھے۔“ (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ (32) حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ مسیح الرابع حضرت میاں صاحب کے نماز سے لگاؤ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”نماز کے عاشق تھے۔خصوصا نماز با جماعت کے قیام کے لئے آپ کا جذبہ اور جدوجہد امتیازی شان کے حامل تھے۔بڑی باقاعدگی سے پانچ وقت ( بیت الذکر ) میں جانے والے۔جب دل کی بیماری سے صاحب فراش ہو گئے تو ( نداء) کی آواز کو ہی اس محبت سے سنتے تھے جیسے محبت کرنے والے اپنے محبوب آواز کو۔جب ذرا چلنے پھرنے کی سکت پیدا ہوئی تو بسا اوقات گھر کے لڑکوں میں سے ہی کسی کو پکڑ کر آگے کھڑا کر دیتے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے جذبہ کی تسکین کر لیتے۔یا رتن باغ میں نماز والے کمرے کے قریب ہی کرسی سرکا کر با جماعت نماز میں شامل ہو جایا کرتے۔حضرت پھوپھا جان ان افراد میں سے نہیں تھے جو خود تو سختی سے نمازوں کے پابند ہوں لیکن بچوں کا اس بارہ میں خیال نہ رکھیں۔کم ہی ایسے بزرگ ہوں گے جو اتنی با قاعدگی سے بلاناغہ روزانہ بچوں کو پنجوقتہ نمازوں کی تلقین کرتے ہیں اور پھر تلقین بھی ایک خشک ملاں کی بے لذت متشددانہ تلقین نہیں بلکہ ایسی پر اثر تلقین جیسے دل اس کے ساتھ لپٹا ہوا ساتھ چلا آیا ہو۔اگر کوئی بچہ ستی کرتا تو چہرہ پر غم اور فکر کے آثار بے اختیار ظاہر ہوتے اور اگر کوئی بچہ آواز پر فوراً لبیک کہتا تو ناز سے بھری ہوئی خوشی کے جذبات آپ کے چہرہ کو شگفتہ کر دیتے۔“ دعا گو ، دعائیں کرنے والے، دعا گو بزرگوں کی خدمت کو سعادت سمجھنے وال رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ کی مجسم تصویر۔ہرا ہم کام (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 152,154) میں کثرت کے ساتھ بزرگوں ، دوستوں عزیزوں سے استخارے کرواتے حتی کہ گھر کے بچوں کو بھی بار بار دعا کے لئے کہنا اور پھر منتظر رہنا کہ کسی پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی بشارت ظاہر ہو۔“ حضرت نواب صاحب کے فرزند شاہد احمد خان صاحب اپنے والد بزرگوار کی سیرت کے اس پہلو پر یوں اظہار کرتے ہیں کہ والد محترم نہایت با قاعدگی سے تہجد پڑھتے تھے اور اس میں بلند آواز سے دعائیں کرتے تھے۔عرصہ تک میں سمجھتا رہا کہ نماز تہجد شاید بچوں کو معاف ہے اور بڑوں پر فرض ہے کیونکہ میں نے والد صاحب کو اس باقاعدگی سے تہجد ادا کرتے ہوئے دیکھا کہ مجھے یہ معلوم کر کے از حد حیرت ہوئی کہ یہ نماز فرض نہیں۔گو بعض لوگ اسے معمولی سمجھیں لیکن میری نظر میں غیر معمولی ہے اور اب تک اس کا اثر میرے ذہن پر قائم ہے اور یہ نظارہ میرے ذہن پر بچپن میں ایسا کھب گیا تھا کہ اب بھی جب میں سوچتا ہوں تو چند لحہ قبل کی بات معلوم ہوتی ہے۔ایک دفعہ سفر کراچی میں آپ کے ہمراہ تھا۔ان دنوں یہ سفر دوراتوں اور ایک دن میں طے ہوتا تھا۔رات کو آپ نے مجھے نچلے برتھ پر سلا دیا اور خود اوپر والے برتھ پر سو گئے۔رات کے آخری حصہ میں مجھے ایک مخصوص سی آواز نے جگا دیا۔میں نے اوپر کی طرف جھانکا تو آپ کو حسب معمول اپنے رب کے حضور تہجد میں گریہ وزاری میں مصروف پایا۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب بیان کرتے ہیں: آپ ان بزرگوں میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ پر زندہ ایمان ہوتا ہے اور اس کے آستانہ کے ساتھ اپنی ساری حاجات کو وابستہ کر دیتے ہیں۔آپ ہر معاملہ میں سب سے اول دعا کی طرف رجوع کرتے اور اپنے دوستوں کو بھی نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی درخواست کرتے۔یہ آپکے ایمان کا تقاضا ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے آپ کے اندر پیدا فرمایا تھا۔آپ دعاؤں میں بہت تضرع