حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 16
29 28 اور زاری سے کام لیتے تھے۔“ ایک اعزاز حضرت ملک غلام فرید صاحب فرماتے ہیں: (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 126) حضرت خلیفتہ اسیح الاول ایک درس اپنے کچے مکان کے صحن میں مغرب کی عشق قرآن حضرت میاں صاحب کو قرآن مجید سے عشق تھا۔قرآن کی کثرت کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے۔خصوصاً قُرانُ الفَجر نہایت خشوع اور الحاح سے پڑھتے۔یوں معلوم ہوتا کہ ہر لفظ پر غور کیا جا رہا ہے اور ہر لفظ سے دل گداز ہو رہا ہے۔حضرت خلیفۃ امسیح الاول اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے درسوں میں با قاعدہ شامل ہوتے تھے۔آپ حضرت مصلح موعود کی نماز کے بعد بھی دیا کرتے تھے۔میں اس درس میں شامل ہوا کرتا تھا۔میں نے ایک دن حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب اور میاں عبدالرحیم خاں صاحب خالد کو اس درس میں شامل ہونے کی تحریک کی۔۔۔اس وقت قادیان کی زندگی نہایت غریبانہ تھی اور درس کی اس مجلس کے لئے نہایت معمولی ایک آدھ لیمپ ہوا کرتا تھا۔درس میں حاضری کی دوسری شام کو ہی میاں عبداللہ خان صاحب اپنی کوٹھی سے گیس کا ایک لیمپ لے آئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے جب گیس کی وہ سفید اور خوش نما روشنی دیکھی تو حضور نہایت خوش ہوئے اور بار بار فرماتے کہ آج تو ہمارا دل باغ باغ ہو گیا ہے اور ان دونوں صاحبزادوں کو بہت دعائیں دیں۔انہی دنوں درس کی مجلس میں ایک عجیب وغریب واقعہ ہوا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول، حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی کے تعلق باللہ کے کچھ واقعات سنا رہے تھے۔ان واقعات میں حضور نے یہ ذکر بھی فرمایا کہ ایک دن مجلس میں بیٹھے ہوئے شاہ عبدالرحیم صاحب کو الہام ہوا کہ تم حاضرین مجلس کے لئے دعا کرو تو یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔یہ بات بیان کر کے خدا کے پاک مسیح کے صدیق نے فرمایا کہ خدا نے مجھے بھی فرمایا ہے کہ تم اپنی اس مجلس کے حاضرین کے لئے دعا کرو تو یہ سب بھی جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد حضور نے دعا فرمائی۔اس مجلس میں حضرت میاں عبداللہ خان صاحب بھی شامل تھے۔“ الفضل 29 ستمبر 1961ء صفحہ 4) تفسیر کبیر نہایت شوق اور محبت سے پڑھتے تھے۔مولوی محمد احمد صاحب ثاقب سے فرمایا کہ میں ایک قیمتی خزانہ سے محروم ہوں۔تفسیر کبیر کی پہلی جلد دستیاب نہیں ہے کہیں سے مہیا کریں۔مولوی صاحب ربوہ سے اپنی جلد لے کر حاضر ہو گئے۔لیکن جب مولوی صاحب نے ہدیہ لینے سے انکار کیا تو آپ ناراض ہوئے اور باصرار دیا۔کیا اچھا ہو کہ جتنی ہیر وارث شاہ آپ کو آتی ہے اتنا قرآن مجید بھی آجائے“ محترم چوہدری رشید احمد صاحب جو کہ سال ہا سال تک آپ کی اراضی کے مینجر رہے بیان کرتے ہیں کہ میں لا ابالی پن میں ہیر وارث شاہ پڑھتا تھا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ کیا اچھا ہو کہ جتنی ہیر وارث شاہ آپ کو آتی ہے اتنا قرآن مجید بھی آجائے۔چنانچہ آپ نے توجہ دلا کے مجھے قرآن مجید با ترجمہ اور کچھ طب پڑھائی اور اس نیک اثر کے تحت ہیر کا پڑھنا چھٹ گیا۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَا هَلِهِ لِاهلِه (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 174) میاں عباس احمد خان صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حضرت والد صاحب محترم کو حضرت والدہ محترمہ کا اپنی زوجہ ہونے کے علاوہ بحیثیت دختر حضرت مسیح موعود بہت زیادہ پاس تھا اور ان کی زندگی کی مساعی میں سے یہ ایک بڑی کوشش تھی کہ حضرت والدہ محترمہ کو ہرممکن آرام پہنچے اور اپنے