حضرت مصلح موعود ؓ — Page 14
24 23 ۳۔امان (مارچ) ۹ - تبوک (ستمبر) ۱۰۔اخاء (اکتوبر) ۴۔شہادت (اپریل) ۱۱۔نبوت (نومبر) ۵ ہجرت (مئی) ۶۔احسان (جون) ۱۲ فتح (دسمبر) ان تمام مہینوں کے نام تاریخ اسلام کے کسی اہم واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعود اپنی جماعت کے بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں سب کی تربیت کے متعلق سوچتے رہتے تھے۔اسی لئے آپ نے ان سب کی تنظیمیں بنادی تھیں کہ سب لوگ ایک طریقہ اور تنظیم سے کام کرنا سیکھیں۔پہلے آپ لجنہ اماءاللہ، خدام الاحمدیہ، ناصرات الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کی تنظیمیں بنا چکے تھے۔جولائی ۱۹۴۰ء میں آپ نے انصار اللہ کی تنظیم بنائی اس میں۴۰ سال سے اوپر کے مرد شامل ہیں تا کہ جماعت کے بوڑھے بھی سست ہو کر نہ بیٹھ جائیں اور وہ بھی جماعت کے کاموں میں حصہ لیں۔جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اللہ میاں نے آپ کے متعلق پہلے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتا دیا تھا کہ آپ مصلح موعود ہیں۔لیکن ابھی تک آپ نے خود یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ مصلح موعود کی پیشنگوئیاں آپ کے لئے ہی تھیں۔جنوری ۱۹۴۴ ء میں اللہ میاں نے ایک رؤیا میں آپ کو بتایا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔اس کے بعد آپ نے خطبہ جمعہ میں اعلان کیا کہ میں ہی مصلح موعود ہوں یہ اعلان سن کر احمدی بہت خوش ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔۲۴ جولائی ۱۹۴۴ء کو حضرت سید و بشری بیگم صاحبہ بات حضرت سید عزیز الله شاہ صاحب ابن حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب سے آپ کا نکاح ہوا۔جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ آپ نے ہر موقعہ پر مسلمانوں کی مدد کی۔جب ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ ملک بنانے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے بہت کام کیا اور تمام احمد یوں کو بھی حکم دیا کہ وہ پاکستان بنانے کے لئے ہر طرح کی قربانی کریں۔۱۹۴۷ ء میں جب پاکستان بننے کے بعد فساد شروع ہوئے تو آپ نے قادیان کو ایک کیمپ بنا دیا۔جہاں آس پاس کے علاقوں کے مسلمان پناہ لینے پہنچ گئے۔کیونکہ قادیان خدا کے فضل سے ہندوؤں سکھوں کے حملوں سے نسبتا محفوظ تھا۔ملک کی تقسیم کے وقت قادیان بھی ہندوستان کے حصے میں آ گیا تھا۔آپ نے فیصلہ کیا کہ سارے احمدی قادیان کو نہیں چھوڑیں گے۔چنانچہ آپ کے حکم سے تقریباً ۳۱۳ احمدی قادیان میں ہی رہے۔آپ نے اپنے بیٹے مکرم مرز او سیم احمد صاحب کو بھی قادیان ہی میں رہنے کا حکم دیا۔جو آخری دم تک قادیان میں رہ کر جماعت کی خدمت کرتے رہے۔آپ خود بھی سب کو پاکستان بھیجنے کے کافی دنوں کے بعد قادیان سے لاہور آئے۔اب چونکہ قادیان جو احمدیوں کا مرکز تھا ہندوستان میں رہ گیا تھا اس لئے آپ نے پاکستان میں جماعت کا نیا مرکز بنایا جس کا نام ربوہ رکھا۔ربوہ کا مطلب ہے اونچی جگہ۔شروع شروع میں نہ یہاں پانی تھا نہ سبزہ تھا۔لیکن آپ کی ہمت اور دعاؤں سے ربوہ آباد ہونا