حضرت مصلح موعود ؓ — Page 15
26 25 شروع ہو گیا۔اللہ میاں نے پانی بھی زمین سے نکال دیا۔بارشیں بھی زیادہ ہونے لگیں۔سبزہ بھی ہر طرف نظر آنے لگا۔پہلے یہاں سے دن کے وقت صرف دو گاڑیاں گذرتی تھیں۔رات کو کوئی گاڑی نہیں گذرتی تھی۔سڑک بھی صرف دن کے وقت کچھ چلتی تھی لیکن جب حضور کی کوششوں سے یہاں شہر آباد ہو گیا تو ریوه با قاعدہ شیشن بن گیا۔بسیں، موٹریں وغیرہ کثرت سے آنے جانے لگیں، یہاں بجلی بھی آئی فون بھی آیا سوئی گیس بھی آگئی اور یوں خدا کی قدرت سے بنجر زمین آباد ہوگئی۔آپ اللہ تعالیٰ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور قرآن شریف سے بہت محبت کرتے تھے۔آپ نے اپنی ساری زندگی قرآن شریف کو سمجھنے اور سمجھانے میں گزار دی۔۱۹۵۴ء میں جب آپ بیت مبارک ربوہ میں عصر کی نماز پڑھا کر واپس آنے لگے تو ایک دشمن نے چاقو سے آپ پر حملہ کر دیا۔آپ کی گردن پر بہت گہرا زخم لگا لیکن خدا تعالی نے آپ کو بچا لیا۔اس کے بعد آپ کافی لمبا عرصہ بیمار رہے۔مگر بیماری میں بھی کام نہیں چھوڑا اور مسلسل کام کرتے رہے۔تفسیر صغیر کا سارا کام آپ نے اپنی بیماری میں ہی کیا۔ساری ساری رات جاگ کر قرآن شریف کی تفسیر لکھتے رہتے۔آپ نے قرآن شریف کی جو مختصر تفسیر لکھی ہے اس کا نام تفسیر صغیر ہے۔ایک تفسیر زیادہ تفصیل سے کی ہے وہ تفسیر کبیر کہلاتی ہے۔آپ کی عادت تھی کہ آپ ٹہلتے ہوئے پڑھتے تھے۔سوائے زیادہ بیماری کے۔جب آپ بہت کمزور ہو گئے تھے ورنہ ہم نے آپ کو ہمیشہ ٹہلتے ہوئے دیکھا۔ہاتھ میں قرآن شریف ہوتا ٹہلتے جاتے اور پڑھتے جاتے۔جیسا کہ پیشگوئی میں اللہ میاں نے پہلے سے بتا دیا تھا آپ بہت ذہین تھے بڑے سے بڑے مسئلے کو فوراً حل کر دیتے۔آپ کا رعب بہت تھا کسی میں اگر کوئی غلط بات دیکھتے تو فوراً ڈانٹ دیتے چاہے وہ اپنے بچے ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔لیکن آپ دل کے بہت حلیم تھے۔اگر ایک وقت ڈانٹتے تو دوسرے وقت اس کی دلجوئی بھی کر دیتے تھے اس لئے سب لوگ آپ سے بہت پیار کرتے تھے اور آپ کو اپنا سچا ہمدرد مجھتے تھے۔جماعت کے اتنے بہت سے کاموں کے باجود آپ کبھی تھکتے نہیں تھے۔بے حد زندہ دل تھے۔ہمیشہ ہنستے رہتے تھے۔اکثر سارے خاندان کو جمع کر کے پکنک پر بھی لے جاتے تھے۔نہ چھوٹوں سے گھبراتے نہ بڑوں سے۔ساری جماعت سے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔بلکہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو لگتا تھا کہ حضور اپنے بچوں سے زیادہ ہمیں پیار کرتے ہیں۔چھوٹے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور ان سے جنسی مذاق کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ میں آپ کے پاس کچھ مخط لے کر گئی جو باہر سے کسی پہرہ دار نے مجھے پکڑا دیئے تھے۔آپ اس وقت کھانا کھا رہے تھے۔مجھے دیکھ کر بہت سنجیدہ ہو کر کہنے لگے۔تم نے ایک جرم کیا ہے اور میں تمہیں اس کی سخت سزا دوں گا۔میری تو جان ہی نکل گئی کہ پتہ نہیں میں نے کیا کر دیا ہے۔کہنے لگے کہ تمہارا جرم یہ ہے کہ تم میری بیٹی