حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 15
27 26 شربت بنا کر مجھے دیا میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا سا پی لیں۔تو پھر میں پیوں گا۔آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا اور میں نے پی لیا۔میں نے شربت قبولیت دعا بس او پر بھی پانی ہو اور نیچے بھی پانی ہو کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں اور ایک باہر دوستوں کو ایک دفعہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے بیان کیا کہ میں اور منشی اروڑا صاحب پلا دیں۔آپ نے ان دونوں بوتلوں میں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہوگا۔میں آپ اکٹھے قادیان میں آئے ہوئے تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا۔اور چند دن سے بارش رکی کے حکم کے مطابق بوتلیں لے کر چلا آیا۔ہوئی تھی۔جب ہم قادیان واپس روانہ ہونے لگے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بابت ایک مشہور روایت خدمت میں سلام کے لئے حاضر ہوئے تو منشی اروڑا صاحب مرحوم نے حضرت حضرت منشی صاحب نے فرمایا ایک دفعہ حضور لیٹے ہوئے تھے اور سید فضل شاہ صاحب حضور کے پیر داب رہے تھے۔حضرت صاحب کسی قدر سو گئے۔فضل شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں پر جیب میں کچھ سخت چیز پڑی ہے۔میں صاحب سے عرض کیا ” حضرت گرمی بڑی سخت ہے دعا کریں کہ ایسی بارش ہو کہ بس او پر بھی پانی ہو اور نیچے بھی پانی ہو۔" حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا اچھا او پر بھی پانی ہو اور نیچے بھی پانی۔" مگر ساتھ ہی میں نے ہنس کر عرض کیا کہ حضرت یہ دعا انہی کے لئے کریں۔نے ہاتھ ڈال کر نکال لی۔تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔آدھی ٹوٹے ہوئے گھڑے کی ایک میرے لئے نہ کریں (ذرا ان ابتدائی بزرگوں کی بے تکلفی کا انداز ملاحظہ ہو کہ حضرت چینی تھی اور دو ایک ٹھیکرے۔میں پھینکنے لگا تو حضور نے فرمایا یہ میاں محمود نے کھیلتے صاحب سے یوں ملتے تھے جیسے ایک مہربان باپ کے اردگرد اس کے بچے جمع ہوں ) کھیلتے میری جیب میں ڈال دیئے۔آپ پھینکیں نہیں میری جیب میں ہی ڈال دیں اس پر حضرت صاحب پھر مسکرا دئیے اور ہمیں دعا کر کے رخصت کیا۔منشی صاحب کیونکہ انہوں نے ہمیں امین سمجھ کر اپنے کھیلنے کی چیز رکھی ہے وہ مانگیں گے تو ہم کہاں فرماتے تھے کہ اس وقت مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان پر بادل کا نام ونشان تک نہ سے دیں گے۔پھر وہ جیب میں ہی ڈال لئے۔یہ واقعہ اگر چہ مولوی عبد الکریم تھا۔مگر ابھی ہم بٹالہ کے راستہ میں یکہ میں بیٹھ کر تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ سامنے سے صاحب مرحوم کے سوانح میں لکھا ہے مگر میرے سامنے کا یہ واقعہ ہے۔ایک بادل اٹھا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چھا گیا۔اور پھر اس زور کی بارش ہوئی (( رفقاء ) احمد جلد چہارم صفحہ 98-99) کہ راستے کے کناروں پر مٹی اٹھانے کی وجہ سے جو ختنہ میں بنی ہوئی تھیں وہ پانی سے