حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 16 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 16

29 28 سباب بھر گئیں۔اس کے بعد ہمارا یکہ جو ایک طرف کی خندق کے پاس چل رہا تھا یک لخت الٹا اور اتفاق ایسا ہوا کہ منشی اروڑ ا صاحب خندق کی طرف کو گرے اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہونے کا اعزاز اونچے راستہ پر گرا۔جس کی وجہ سے منشی صاحب کے اوپر اور نیچے پانی ہی پانی ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں قادیان سے رخصت ہونے لگا اور حضور نے اور میں بیچ رہا۔چونکہ خدا کے فضل سے چوٹ کسی کو بھی نہیں آئی تھی میں نے منشی اروڑا اجازت دی۔پھر فرمایا کہ ٹھہر جائیں۔آپ دودھ کا گلاس لے آئے اور فرمایا پی لیں۔صاحب کو اوپر اٹھاتے ہوئے ہنس کر کہا ”لو او پر اور نیچے پانی کی اور دعائیں کرالو۔“ شیخ رحمت اللہ صاحب بھی آگئے۔پھر ان کے لئے بھی حضور دودھ کا گلاس لائے اور اور پھر ہم حضرت صاحب کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے آگے روانہ ہوئے۔پھر نہر تک ہمیں چھوڑنے کے لئے تشریف لائے اور بہت دفعہ حضور نہر تک ہمیں (( رفقاء ) احمد جلد چہارم صفحہ 57) چھوڑنے کے لئے تشریف لاتے۔(( رفقاء) احمد جلد چہارم صفحہ 114) حضور کی تصویر اتارنے کا واقعہ میں قادیان میں ( بیت ) مبارک سے ملحق کمرے میں ٹھہرا کرتا تھا۔میں ایک حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور دہلی سے واپسی پر دفعہ سحری کھا رہا تھا۔حضور تشریف لے آئے۔دیکھ کر فرمایا: آپ دال سے روٹی کھا امرتسر اترے۔حضرت اماں جان بھی ہمراہ تھیں۔حضور نے ایک صاحبزادے کو رہے ہیں؟ اور اسی وقت منتظم کو بلوایا اور فرمانے لگے کہ آپ سحری کے وقت دوستوں جو غالباً میاں بشیر احمد صاحب تھے گود میں لیا اور ایک وزنی بیگ دوسری بغل میں لیا۔کو ایسا کھانا دیتے ہیں؟ یہاں ہمارے جس قد ر ا حباب ہیں وہ سفر میں نہیں۔ہر ایک مجھے فرمایا کہ آپ پاندان لے لیں۔میں نے کہا حضور مجھے بیگ دے دیں۔آپ نے سے معلوم کرو کہ ان کو کیا کیا چیز کھانے کی عادت ہے اور وہ سحری کو کیا کیا چیز پسند فرمایا نہیں۔ایک دو دفعہ میرے کہنے پر حضور نے یہی فرمایا۔تو میں نے پاندان اٹھا کرتے ہیں۔ویسا ہی کھانا ان کے لئے تیار کیا جائے۔پھر منتظم میرے لئے اور کھانا لیا۔اور ہم چل پڑے۔اتنے میں دو تین جوان عمر انگریز جو اسٹیشن پر تھے انھوں نے مجھ لایا۔مگر میں کھانا کھا چکا تھا اور ( نداء) بھی ہوگئی تھی۔حضور نے فرمایا (نداء ) جلد دی سے کہا کہ حضور سے کہو کہ ذرا کھڑے ہو جائیں۔چنانچہ میں نے عرض کی کہ حضور یہ گئی ہے اس کا خیال نہ کرو۔چاہتے ہیں کہ حضور ذرا کھڑے ہو جائیں۔حضور کھڑے ہو گئے اور انھوں نے اسی حالت میں حضور کا فوٹو لے لیا۔(( رفقاء ) احمد جلد چہارم صفحہ 94-95) (( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص 120-121 ) حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب کے الفاظ حضرت منشی ظفر احمد صاحب