حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 14 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 14

25 24 نہیں ؟۔حضرت صاحب نے فرمایا " یہی جوشی ظفر احمد صاحب جماعت کپورتھلہ کی صاحب کی اس ضرورت کا مجھ سے ذکر کیوں نہیں کیا۔طرف سے ساٹھ روپے لائے تھے۔منشی صاحب نے کہا ”حضرت منشی ظفر احمد ، صاحب نے مجھ سے تو اس کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی جماعت سے ذکر کیا۔اور میں ہم مشرب ہونے کا اعزاز ان سے پوچھوں گا کہ ہمیں کیوں نہیں بتایا۔اس کے بعد منشی اروڑ ا صاحب میرے (( رفقاء ) احمد جلد چہارم صفحه 57-58) حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت صاحب اپنے بیٹھنے کی پاس آئے اور سخت ناراضگی میں کہا کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی اور تم جگہ پر کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے۔بلکہ کنڈا لگا کر بیٹھتے تھے۔حضرت صاحبزادہ میاں محمود نے مجھ سے ذکر نہیں کیا۔میں نے کہا خشی صاحب تھوڑی سی رقم تھی اور میں نے اپنی احمد صاحب تھوڑی تھوڑی دیر بعد آکر کہتے ابا کنڈا کھول۔اور حضور اٹھ کر کھول بیوی کے زیور سے پوری کر دی۔اس میں آپ کی نارائستگی کی کیا بات ہے۔مگر فشی دیتے۔میں ایک دفعہ حاضر خدمت ہوا۔حضور بوریئے پر بیٹھے تھے۔مجھ کو دیکھ کر آپ صاحب کا غصہ کم نہ ہوا اور وہ برابر یہی کہتے رہے کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت نے پلنگ اٹھایا۔اندر اٹھا کر لے گئے۔میں نے کہا حضور میں اٹھا لیتا ہوں۔آپ پیش آئی تھی اور تم نے یہ ظلم کیا کہ مجھے نہیں بتایا۔پھر منشی اروڑا صاحب چھ ماہ تک مجھے فرمانے لگے بھاری زیادہ ہے آپ سے نہیں اٹھے گا اور فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ سے ناراض رہے۔اللہ اللہ یہ وفدائی لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود کو عطا ہوئے۔جائیں۔مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے۔پہلے میں نے انکار کیا لیکن آپ نے ذرا غور فرمائیں کہ حضرت صاحب جماعت سے امداد طلب فرماتے ہیں مگر ایک فرمایا نہیں آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔پھر میں بیٹھ گیا۔مجھے پیاس لگی تھی میں نے اکیلا اور غریب شخص العتا ہے اور جماعت سے ذکر کئے بغیر اپنی بیوی کا زیور فروخت گھڑوں کی طرف نظر اٹھائی۔وہاں کوئی پانی پینے کا برتن نہ تھا۔آپ مجھے دیکھ کر کر کے اس رقم کو پورا کر دیتا ہے۔اور پھر حضرت صاحب کے سامنے رقم پیش کرتے فرمانے لگے کیا آپ کو پیاس لگ رہی ہے؟ میں پانی لاتا ہوں۔نیچے زنانے سے جا ہوئے یہ ذکر تک نہیں کرتا کہ یہ رقم میں دے رہا ہوں یا کہ جماعت۔تا کہ حضرت کر آپ گلاس لے آئے پھر فرمایا ذرا ٹھہرئیے، اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو صاحب کی دعا ساری جماعت کو پہنچے۔اور اس کے مقابل پر دوسرا فدائی یہ معلوم کر کے بوتلیں شربت کی لے آئے۔جو منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں۔بہت لذیذ شربت تھا۔کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی اور میں اس خدمت سے محروم رہا ایسا بیچ و فرمایا کہ ان بوتلوں کو رکھے ہوئے بہت دن ہو گئے۔کیونکہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے تاب کھاتا ہے کہ اپنے دوست سے چھ ماہ تک ناراض رہتا ہے کہ تم نے حضرت کسی دوست کو پا کر پھر خود پیئیں گے آج مجھے یاد آ گیا۔چنانچہ آپ نے گلاس میں