حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 17
31 30 ہے۔معجزہ کی مثال ایسی ہی ہے۔“ بارہ حواریوں میں شامل ہونے کا اعزاز خاکسار اور حافظ حامد علی تھے۔پھر بھی گاڑی پر اینٹ پتھر برستے رہے۔جب ہم چلے تو (الحکم کے دسمبر ۱۹۴۴ء) مولوی عبد الکریم صاحب پیچھے رہ گئے۔محمد خان صاحب گاڑی سے کود پڑے اور مولوی صاحب کے گرد لوگ جمع ہو گئے جو محمد خان صاحب کو دیکھ کر ہٹ گئے اور محمد خان صاحب وفات مسیح کے بارہ میں مولوی نذیر حسین دہلوی کے ساتھ مباحثہ کی تجویز ہوئی۔حضور مولوی صاحب کو لے کر آئے۔نے انہیں مباحثہ کا چیلنج دیا اور پھر قسم کھانے پر آمادہ کیا لیکن وہ لیت و لعل سے کام لیتارہا اور (( رفقاء) احمد جلد ۴ ص ۱۹۸) کئی قسم کی شرائط پیش کرتا رہا۔حضور نے منشی ظفر احمد اور منشی اروڑے خان صاحب کو ایک خط حضور کی قبولیت دعا کے گواہ دے کر مولوی نذیر حسین کے پاس بھیجا جس میں لکھا تھا کہ کل ہم جامع مسجد دہلی پہنچ جائیں حضرت منشی اروڑا خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی نشانات اور گے۔اگر تم نہ آئے تو خدا کی لعنت ہو گی۔اصرار کے باوجود انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔قبولیت دعا کے مور د اور گواہ تھے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب نزول اسیح اگلے روز حضرت اقدس اپنے بارہ حواریوں کے ساتھ جامع مسجد میں پہنچ گئے۔ان بارہ روحانی خزائن جلد ۱۸ کے صفحات ۵۴۴ اور ۶ ۵۷ میں اپنی پیشگوئی بابت عبداللہ آتھم اور حواریوں میں حضرت منشی اروڑے خان صاحب بھی شامل تھے۔پیشگوئی بابت مقدمه اقدام قتل از مارٹن کلارک کے گواہ کے طور پر حضرت منشی اروڑا خان ہزاروں کا مجمع تھا لیکن مولوی نذیر حسین نے حضور کی طرف سے دلائل وفات مسیح صاحب کا نام تحریر فرمایا ہے۔دئے جانے کے بعد قسم کھانے سے انکار کیا جس پر انگریز افسر پولیس نے کہا کہ چلے جائیں۔(۱) ایک روایت جو کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بیان فرمائی ہے اس رفقاء نے کہا کہ پہلے فریق ثانی جائے فریق ثانی مصر رہا کہ پہلے ہم جائیں۔حضرت منشی کا براہ راست آپ سے تعلق ہے۔بیان فرماتے ہیں: ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس بارے میں کچھ قیل قال ہوتی رہی پھر کپتان پولیس ’ ایک دفعہ منشی اروڑ اصاحب محمد خان صاحب اور خاکسار قادیان سے رخصت نے قرار دیا کہ دونوں ایک ساتھ اٹھیں۔ایک دوازے سے وہ اور دوسرے سے ہم چلے ہونے لگے۔گرمیوں کا موسم تھا اور گرمی بہت سخت تھی۔اجازت اور مصافحہ کے بعد منشی جائیں۔غرض اس طرح ہم اٹھے۔ہم بارہ آدمیوں نے حضرت صاحب کے گرد حلقہ باندھ اروڑ ا صاحب نے کہا کہ حضور گرمی بہت ہے۔ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ پانی ہمارے لیا اور ہمارے گرد پولیس نے۔اس وقت دہلی والوں نے اینٹ پتھر بہت پھینکے مولوی نذیر اوپر اور نیچے ہو۔حضور نے فرمایا خدا قادر ہے۔میں نے عرض کی حضور یہ دعا انہیں کے لئے حسین پر بھی اور ہم پر بھی۔ہم درے کی جانب والے دروازے سے باہر نکلے تو ہماری فرمانا میرے لئے نہیں کہ ان کے اوپر نیچے پانی ہو۔قادیان سے یکہ سے سوار ہوکر ہم تینوں گاڑی جس میں ہم آئے تھے دہلی والوں نے کہیں ہٹادی تھی۔کپتان پولیس نے ایک شکرم چلے تو خاکروبوں کے مکانات سے ذرا آگے نکلے تھے کہ یکدم بادل آکر سخت بارش شروع میں ہمیں سوار کرایا۔کوچ بکس پر انسپکٹر پولیس، دونوں پائیدانوں پر دوسب انسپکٹر اور پیچھے ہوگئی۔اس وقت سڑک کے گرد کھائیاں بہت گہری تھیں۔تھوڑی دور آگے جا کر یکہ الٹ سپاہی گاڑی پر تھے۔گاڑی میں حضرت صاحب محمد خان صاحب ہمنشی اروڑ ا صاحب، گیا۔منشی اروڑا صاحب بدن کے بھاری تھے وہ نالی میں گر گئے اور محمد خان صاحب اور میں